<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet href="/stylesheet.xsl" type="text/xsl"?>
<rss version="2.0" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:itunes="http://www.itunes.com/dtds/podcast-1.0.dtd" xmlns:podcast="https://podcastindex.org/namespace/1.0">
  <channel>
    <atom:link rel="self" type="application/rss+xml" href="https://feeds.transistor.fm/bbe404b9-814c-4a46-9c90-08e817af6dd7" title="MP3 Audio"/>
    <atom:link rel="hub" href="https://pubsubhubbub.appspot.com/"/>
    <podcast:podping usesPodping="true"/>
    <title>دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ</title>
    <generator>Transistor (https://transistor.fm)</generator>
    <itunes:new-feed-url>https://feeds.transistor.fm/bbe404b9-814c-4a46-9c90-08e817af6dd7</itunes:new-feed-url>
    <description>امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
مُدرِّس:
 ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
 مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</description>
    <copyright>© 2024 Rahimia Institute of Quranic Sciences</copyright>
    <podcast:guid>730898c0-9d3a-511c-9a74-ae5b63e715e9</podcast:guid>
    <podcast:locked>yes</podcast:locked>
    <language>ur</language>
    <pubDate>Thu, 28 May 2026 17:12:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 28 May 2026 17:13:20 +0500</lastBuildDate>
    <link>https://rahimia.org</link>
    <image>
      <url>https://img.transistorcdn.com/8ysPO5C4yBkE4FcDzjQbGcFoRGxlgi30GCYPpzf1-xk/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.jpg</url>
      <title>دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ</title>
      <link>https://rahimia.org</link>
    </image>
    <itunes:category text="Religion &amp; Spirituality"/>
    <itunes:category text="Education"/>
    <itunes:type>episodic</itunes:type>
    <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
    <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/8ysPO5C4yBkE4FcDzjQbGcFoRGxlgi30GCYPpzf1-xk/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jMzcy/ODg0ZDM2MTU5Zjgx/MThjY2E2N2NlNzk4/NWUzMC5wbmc.jpg"/>
    <itunes:summary>امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
مُدرِّس:
 ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
 مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</itunes:summary>
    <itunes:subtitle>امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
مُدرِّس:
 ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
 مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور.</itunes:subtitle>
    <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
    <itunes:owner>
      <itunes:name>Irfan Sadiq</itunes:name>
    </itunes:owner>
    <itunes:complete>No</itunes:complete>
    <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 15 | تشکیلِ انسانی تہذیب میں ارتفاقِ اول کا کردار ، پانچ دائرے اور انسانی ضروریات۔۔</title>
      <itunes:episode>15</itunes:episode>
      <podcast:episode>15</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 15 | تشکیلِ انسانی تہذیب میں ارتفاقِ اول کا کردار ، پانچ دائرے اور انسانی ضروریات۔۔</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">dfe1157e-14ab-40b7-a847-039cfb690310</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/1bf02f8e</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 15<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 5)<br> تشکیلِ انسانی تہذیب میں ارتفاقِ اول کا کردار ، پانچ دائرے اور انسانی ضروریات کے گیارہ اصولوں کا مطالعہ* (البدور البازغہ اور حجةُ اللہ البالغہ کے تناظر میں)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ : 26؍ جولائی 2023ء / 07؍ محرم الحرام 1445ھ<br> بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ مباحث کا ما حصل اور اگلی مباحث سے ربط<br>✔️ ارتفاقات کی بحث کا حجة اللہ البالغہ میں اجمالاً اور بدورِ بازغہ میں تفصیلاً ذکر<br>✔️ ارتفاقِ اول کی پہلی بحث؛ تقطیعِ اصوات و تشکیلِ لغات<br>✔️ الفاظ کے دائرے کی وسعت نیز عربی زبان کی خصوصیات<br>✔️ عجائبِ عالمِ صوت سے متعلق ’’الخیر الکثیر ‘‘ کی لاجواب بحث<br>✔️ ہر جانور کی ایک مخصوص آواز اور اس کی ہر حالت کی علیحدہ بولی<br>✔️ انسان کو آواز کی تقطیع کے ذریعے حروف کی ادائیگی کی خصوصیت حاصل<br>✔️ اسماء الحسنیٰ کے اشیاء کے مظاہر کے ساتھ تعلق کی اساس پر پہلے حرف (فاء کلمہ) کے تلفظ کا وجود<br>✔️ دوسرے حرف (عین کلمہ) سے پہلے حرف (فاء کلمہ) کی معنویت کی تحصیل<br>✔️ تیسرے حرف (لام کلمہ) سے تشخص کا حصول<br>✔️ عربی زبان میں تین حروفِ اصلیہ (ثلاثی مادے) اسی طرح وجود میں آئے<br>✔️ تین حروفِ اصلیہ کی معنویت میں مسموعات (آواز) کا بڑا کردار<br>✔️ الفاظ کی حکایات میں جغرافیائی محل وقوع اور مزاجوں کے اختلاف اور ادراکات  کا بڑا دخل<br>✔️ لفظ کی وضعی ساخت کے قدسی و دنسی مظاہر کی مزاحمت اور مُتنوِّع زبانوں اور لہجوں کی تشکیل<br>✔️ آوازوں کی حکایت سے الفاظ بننے کی تحقیقِ مزید<br>✔️ انسان میں ہر صورتِ ذہنیہ کی حکایت کی ودیعت نیز صورتِ ذہنیہ کی دو شکلیں<br>✔️ انسان کو تقطیعِ اصوات کی خاص قوت سے کلام اور گفتگو کرنے کی صلاحیت حاصل<br>✔️ شاہ صاحبؒ کا ایک اہم ادبی جملے سے ’’خیرِ کثیر‘‘ کی مباحث کی طرف اشارہ<br>✔️ ارتفاقِ اول کی دوسری بحث؛ غذائی ضروریات پوری کرنے کے طریقوں کی پہچان<br>✔️ ارتفاقِ اول کی تیسری بحث؛ مشقت والے کاموں کی انجام دہی کے لیے جانوروں کو مسخر کرنا  <br>✔️ ارتفاقِ اول کی چوتھی بحث؛ رہائش اور لباس کی تیاری<br>✔️ ارتفاقِ اول کی  پانچویں بحث؛ منکوحہ کا تعیّن<br>✔️ حجةُ اللہ البالغہ سے ارتفاقِ اول کے گیارہ اصولوں کا تعارف<br>✔️ (1) لسانیاتی اظہار کے لیے لغت کی تشکیل کے تین امور<br>✔️ (2) غذائی ضروریات کا انتظام<br>✔️ (3) گھریلو ضرورت کے لیے صنعت کاری<br>✔️ (4) اپنی ضرورتوں کے لیے جانوروں کو تابع بنانا<br>✔️ (5) رہائش کا بندوبست<br>✔️ (6) لباس کی تیاری<br>✔️ (7) شریکِ حیات کا تعین<br>✔️ (8) کاشتکاری کے لیے صنعتی آلات کی تیاری<br>✔️ (9) زرعی پیداوار کا تبادلہ اور تعاونِ باہمی<br>✔️ (10) اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے حکمرانی کا نظام<br>✔️ (11) خصومات و نزاعات کو نمٹانے کے لیے تسلیم شدہ قانون<br>✔️ ارتفاقات کی بہتری کے لیے چند اہم امور کی نشان دہی<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق اہم بات؛ ارتفاقات کا علم‘ کتابِ الٰہی اور انبیاء کا علم</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 15<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 5)<br> تشکیلِ انسانی تہذیب میں ارتفاقِ اول کا کردار ، پانچ دائرے اور انسانی ضروریات کے گیارہ اصولوں کا مطالعہ* (البدور البازغہ اور حجةُ اللہ البالغہ کے تناظر میں)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ : 26؍ جولائی 2023ء / 07؍ محرم الحرام 1445ھ<br> بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ مباحث کا ما حصل اور اگلی مباحث سے ربط<br>✔️ ارتفاقات کی بحث کا حجة اللہ البالغہ میں اجمالاً اور بدورِ بازغہ میں تفصیلاً ذکر<br>✔️ ارتفاقِ اول کی پہلی بحث؛ تقطیعِ اصوات و تشکیلِ لغات<br>✔️ الفاظ کے دائرے کی وسعت نیز عربی زبان کی خصوصیات<br>✔️ عجائبِ عالمِ صوت سے متعلق ’’الخیر الکثیر ‘‘ کی لاجواب بحث<br>✔️ ہر جانور کی ایک مخصوص آواز اور اس کی ہر حالت کی علیحدہ بولی<br>✔️ انسان کو آواز کی تقطیع کے ذریعے حروف کی ادائیگی کی خصوصیت حاصل<br>✔️ اسماء الحسنیٰ کے اشیاء کے مظاہر کے ساتھ تعلق کی اساس پر پہلے حرف (فاء کلمہ) کے تلفظ کا وجود<br>✔️ دوسرے حرف (عین کلمہ) سے پہلے حرف (فاء کلمہ) کی معنویت کی تحصیل<br>✔️ تیسرے حرف (لام کلمہ) سے تشخص کا حصول<br>✔️ عربی زبان میں تین حروفِ اصلیہ (ثلاثی مادے) اسی طرح وجود میں آئے<br>✔️ تین حروفِ اصلیہ کی معنویت میں مسموعات (آواز) کا بڑا کردار<br>✔️ الفاظ کی حکایات میں جغرافیائی محل وقوع اور مزاجوں کے اختلاف اور ادراکات  کا بڑا دخل<br>✔️ لفظ کی وضعی ساخت کے قدسی و دنسی مظاہر کی مزاحمت اور مُتنوِّع زبانوں اور لہجوں کی تشکیل<br>✔️ آوازوں کی حکایت سے الفاظ بننے کی تحقیقِ مزید<br>✔️ انسان میں ہر صورتِ ذہنیہ کی حکایت کی ودیعت نیز صورتِ ذہنیہ کی دو شکلیں<br>✔️ انسان کو تقطیعِ اصوات کی خاص قوت سے کلام اور گفتگو کرنے کی صلاحیت حاصل<br>✔️ شاہ صاحبؒ کا ایک اہم ادبی جملے سے ’’خیرِ کثیر‘‘ کی مباحث کی طرف اشارہ<br>✔️ ارتفاقِ اول کی دوسری بحث؛ غذائی ضروریات پوری کرنے کے طریقوں کی پہچان<br>✔️ ارتفاقِ اول کی تیسری بحث؛ مشقت والے کاموں کی انجام دہی کے لیے جانوروں کو مسخر کرنا  <br>✔️ ارتفاقِ اول کی چوتھی بحث؛ رہائش اور لباس کی تیاری<br>✔️ ارتفاقِ اول کی  پانچویں بحث؛ منکوحہ کا تعیّن<br>✔️ حجةُ اللہ البالغہ سے ارتفاقِ اول کے گیارہ اصولوں کا تعارف<br>✔️ (1) لسانیاتی اظہار کے لیے لغت کی تشکیل کے تین امور<br>✔️ (2) غذائی ضروریات کا انتظام<br>✔️ (3) گھریلو ضرورت کے لیے صنعت کاری<br>✔️ (4) اپنی ضرورتوں کے لیے جانوروں کو تابع بنانا<br>✔️ (5) رہائش کا بندوبست<br>✔️ (6) لباس کی تیاری<br>✔️ (7) شریکِ حیات کا تعین<br>✔️ (8) کاشتکاری کے لیے صنعتی آلات کی تیاری<br>✔️ (9) زرعی پیداوار کا تبادلہ اور تعاونِ باہمی<br>✔️ (10) اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے حکمرانی کا نظام<br>✔️ (11) خصومات و نزاعات کو نمٹانے کے لیے تسلیم شدہ قانون<br>✔️ ارتفاقات کی بہتری کے لیے چند اہم امور کی نشان دہی<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق اہم بات؛ ارتفاقات کا علم‘ کتابِ الٰہی اور انبیاء کا علم</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 17:12:09 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/1bf02f8e/e7de1dcb.mp3" length="122421276" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/3ZgLagtE2qhrUoYNIYZvqHovVm0E9vEThCMqbDk6gno/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS85ODQw/M2FlMGZjOWYxYjY1/N2QzYWY3MjU1NzZk/M2FjNC5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5091</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 15<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 5)<br> تشکیلِ انسانی تہذیب میں ارتفاقِ اول کا کردار ، پانچ دائرے اور انسانی ضروریات کے گیارہ اصولوں کا مطالعہ* (البدور البازغہ اور حجةُ اللہ البالغہ کے تناظر میں)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ : 26؍ جولائی 2023ء / 07؍ محرم الحرام 1445ھ<br> بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ مباحث کا ما حصل اور اگلی مباحث سے ربط<br>✔️ ارتفاقات کی بحث کا حجة اللہ البالغہ میں اجمالاً اور بدورِ بازغہ میں تفصیلاً ذکر<br>✔️ ارتفاقِ اول کی پہلی بحث؛ تقطیعِ اصوات و تشکیلِ لغات<br>✔️ الفاظ کے دائرے کی وسعت نیز عربی زبان کی خصوصیات<br>✔️ عجائبِ عالمِ صوت سے متعلق ’’الخیر الکثیر ‘‘ کی لاجواب بحث<br>✔️ ہر جانور کی ایک مخصوص آواز اور اس کی ہر حالت کی علیحدہ بولی<br>✔️ انسان کو آواز کی تقطیع کے ذریعے حروف کی ادائیگی کی خصوصیت حاصل<br>✔️ اسماء الحسنیٰ کے اشیاء کے مظاہر کے ساتھ تعلق کی اساس پر پہلے حرف (فاء کلمہ) کے تلفظ کا وجود<br>✔️ دوسرے حرف (عین کلمہ) سے پہلے حرف (فاء کلمہ) کی معنویت کی تحصیل<br>✔️ تیسرے حرف (لام کلمہ) سے تشخص کا حصول<br>✔️ عربی زبان میں تین حروفِ اصلیہ (ثلاثی مادے) اسی طرح وجود میں آئے<br>✔️ تین حروفِ اصلیہ کی معنویت میں مسموعات (آواز) کا بڑا کردار<br>✔️ الفاظ کی حکایات میں جغرافیائی محل وقوع اور مزاجوں کے اختلاف اور ادراکات  کا بڑا دخل<br>✔️ لفظ کی وضعی ساخت کے قدسی و دنسی مظاہر کی مزاحمت اور مُتنوِّع زبانوں اور لہجوں کی تشکیل<br>✔️ آوازوں کی حکایت سے الفاظ بننے کی تحقیقِ مزید<br>✔️ انسان میں ہر صورتِ ذہنیہ کی حکایت کی ودیعت نیز صورتِ ذہنیہ کی دو شکلیں<br>✔️ انسان کو تقطیعِ اصوات کی خاص قوت سے کلام اور گفتگو کرنے کی صلاحیت حاصل<br>✔️ شاہ صاحبؒ کا ایک اہم ادبی جملے سے ’’خیرِ کثیر‘‘ کی مباحث کی طرف اشارہ<br>✔️ ارتفاقِ اول کی دوسری بحث؛ غذائی ضروریات پوری کرنے کے طریقوں کی پہچان<br>✔️ ارتفاقِ اول کی تیسری بحث؛ مشقت والے کاموں کی انجام دہی کے لیے جانوروں کو مسخر کرنا  <br>✔️ ارتفاقِ اول کی چوتھی بحث؛ رہائش اور لباس کی تیاری<br>✔️ ارتفاقِ اول کی  پانچویں بحث؛ منکوحہ کا تعیّن<br>✔️ حجةُ اللہ البالغہ سے ارتفاقِ اول کے گیارہ اصولوں کا تعارف<br>✔️ (1) لسانیاتی اظہار کے لیے لغت کی تشکیل کے تین امور<br>✔️ (2) غذائی ضروریات کا انتظام<br>✔️ (3) گھریلو ضرورت کے لیے صنعت کاری<br>✔️ (4) اپنی ضرورتوں کے لیے جانوروں کو تابع بنانا<br>✔️ (5) رہائش کا بندوبست<br>✔️ (6) لباس کی تیاری<br>✔️ (7) شریکِ حیات کا تعین<br>✔️ (8) کاشتکاری کے لیے صنعتی آلات کی تیاری<br>✔️ (9) زرعی پیداوار کا تبادلہ اور تعاونِ باہمی<br>✔️ (10) اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے حکمرانی کا نظام<br>✔️ (11) خصومات و نزاعات کو نمٹانے کے لیے تسلیم شدہ قانون<br>✔️ ارتفاقات کی بہتری کے لیے چند اہم امور کی نشان دہی<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق اہم بات؛ ارتفاقات کا علم‘ کتابِ الٰہی اور انبیاء کا علم</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 14 |  ارتفاقاتِ اربعہ: نوعِ انسانی کی سہولتوں کا منظم اور مربوط نظام ، اس کی حکمتیں</title>
      <itunes:episode>14</itunes:episode>
      <podcast:episode>14</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 14 |  ارتفاقاتِ اربعہ: نوعِ انسانی کی سہولتوں کا منظم اور مربوط نظام ، اس کی حکمتیں</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">9b12c936-3205-433b-a9eb-bed4f92dbee9</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/ac9c31a1</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p>درس : 14<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 4)<br> ارتفاقاتِ اربعہ: نوعِ انسانی کی سہولتوں کا منظم اور مربوط نظام ، اس کی حکمتیں اور ارتقائی منازل</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة*<br> بتاریخ: 21؍ جون 2023ء / 02؍ ذو الحجہ  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇</p><p>✔️ پچھلی تین فصلوں کا خلاصہ اور چوتھی فصل سے ربط<br>✔️ فصل ۴ میں ارتفاقات (نوعِ انسانی کی سہولتوں کے منظم اور مربوط نظام) کا بیان<br>✔️ ارتفاق کا لغوی و اصطلاحی مفہوم<br>✔️ رحمان ذات کی امام نوعِ انسانی پر بدنِ انسانی کے پہلو سے خاص عنایت<br>✔️  ارتفاقِ اول کی حقیقت؛ انسان کے نوعی فطری تقاضوں کی تکمیل کی پہلی اجتماعی سطح<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کی حقیقت؛ ارتفاقِ اول کے امور کا منظم و مربوط نظام<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کے پانچ حکمتیں:<br>✔️ ۱) حکمتِ معاشیہ (زندگی گزارنے کے آداب)<br>✔️ حکمتِ معاشیہ کا سَمتِ صالح سے بڑا گہرا تعلق<br>✔️ ۲) حکمتِ اکتسابیہ (وسائل معاش کے حصول کا نظام)<br>✔️ تین بنیادی پیشوں سے منحرف ذہنیت کا جائزہ<br>✔️ پیشے بننے کے عمل سے متعلق اہم بات<br>✔️ ۳) حکمتِ منزلیہ (گھریلو نظام)<br>✔️ ۴) حکمتِ تعاملیہ (باہمی معاملات)<br>✔️ ۵) حکمتِ تعاونیہ (تعاون باہمی کا نظام)<br>✔️ ارتفاقِ ثالث (ملکی نظام) کی حقیقت<br>✔️ ریاست کی حقیقت نیز صحت و مرض کی حالت اور طبیب کا کام<br>✔️ امام (حکمران) سے شخصِ واحد نہیں بلکہ نظام مراد ہے<br>✔️ ارتفاقِ رابع کی حقیقت<br>✔️ ولی اللہی فلسفے میں نظام کی اصطلاح‘ بڑی اہمیت کی حامل<br>✔️ ارتفاقاتِ اربعہ کا باہمی ربط و تعلق (اِرتقاء انسانیت کی چار منزلیں)<br>✔️ تمام ارتفاقات تہہ بہ تہہ مربوط اور ایک دوسرے جڑے ہوئے ہیں<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق دو اہم نکتے<br>✔️ ہر ارتفاق کے بنیادی ارکان اور اعلی معیار کے مُتمِّمات (تکمیلی امور)<br>✔️ ارتفاقات کے مُتمِّمات کے چند قاعدے<br>✔️ زمین میں زیادہ تر فساد اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دو پہلو<br>✔️ طبعی مزاج اور دور کے تقاضوں کے مناسب ارتفاق اختیار نہ کرنے سے متعلق اہم تاریخی جملہ<br>✔️ فساد برپا ہونے کی دوسری بڑی خرابی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p>درس : 14<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 4)<br> ارتفاقاتِ اربعہ: نوعِ انسانی کی سہولتوں کا منظم اور مربوط نظام ، اس کی حکمتیں اور ارتقائی منازل</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة*<br> بتاریخ: 21؍ جون 2023ء / 02؍ ذو الحجہ  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇</p><p>✔️ پچھلی تین فصلوں کا خلاصہ اور چوتھی فصل سے ربط<br>✔️ فصل ۴ میں ارتفاقات (نوعِ انسانی کی سہولتوں کے منظم اور مربوط نظام) کا بیان<br>✔️ ارتفاق کا لغوی و اصطلاحی مفہوم<br>✔️ رحمان ذات کی امام نوعِ انسانی پر بدنِ انسانی کے پہلو سے خاص عنایت<br>✔️  ارتفاقِ اول کی حقیقت؛ انسان کے نوعی فطری تقاضوں کی تکمیل کی پہلی اجتماعی سطح<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کی حقیقت؛ ارتفاقِ اول کے امور کا منظم و مربوط نظام<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کے پانچ حکمتیں:<br>✔️ ۱) حکمتِ معاشیہ (زندگی گزارنے کے آداب)<br>✔️ حکمتِ معاشیہ کا سَمتِ صالح سے بڑا گہرا تعلق<br>✔️ ۲) حکمتِ اکتسابیہ (وسائل معاش کے حصول کا نظام)<br>✔️ تین بنیادی پیشوں سے منحرف ذہنیت کا جائزہ<br>✔️ پیشے بننے کے عمل سے متعلق اہم بات<br>✔️ ۳) حکمتِ منزلیہ (گھریلو نظام)<br>✔️ ۴) حکمتِ تعاملیہ (باہمی معاملات)<br>✔️ ۵) حکمتِ تعاونیہ (تعاون باہمی کا نظام)<br>✔️ ارتفاقِ ثالث (ملکی نظام) کی حقیقت<br>✔️ ریاست کی حقیقت نیز صحت و مرض کی حالت اور طبیب کا کام<br>✔️ امام (حکمران) سے شخصِ واحد نہیں بلکہ نظام مراد ہے<br>✔️ ارتفاقِ رابع کی حقیقت<br>✔️ ولی اللہی فلسفے میں نظام کی اصطلاح‘ بڑی اہمیت کی حامل<br>✔️ ارتفاقاتِ اربعہ کا باہمی ربط و تعلق (اِرتقاء انسانیت کی چار منزلیں)<br>✔️ تمام ارتفاقات تہہ بہ تہہ مربوط اور ایک دوسرے جڑے ہوئے ہیں<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق دو اہم نکتے<br>✔️ ہر ارتفاق کے بنیادی ارکان اور اعلی معیار کے مُتمِّمات (تکمیلی امور)<br>✔️ ارتفاقات کے مُتمِّمات کے چند قاعدے<br>✔️ زمین میں زیادہ تر فساد اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دو پہلو<br>✔️ طبعی مزاج اور دور کے تقاضوں کے مناسب ارتفاق اختیار نہ کرنے سے متعلق اہم تاریخی جملہ<br>✔️ فساد برپا ہونے کی دوسری بڑی خرابی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 17:02:39 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/ac9c31a1/9fd3e023.mp3" length="155425218" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/yOVV0CubLmNDlryRXZp-6CY81PIJO8SpRiKSEIbzdYU/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS82NmE4/NmFmMWFjYmFlZWI2/NGFhZTY5NTBlYjEy/NTk0Ni5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>6464</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p>درس : 14<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثالث، فصل 4)<br> ارتفاقاتِ اربعہ: نوعِ انسانی کی سہولتوں کا منظم اور مربوط نظام ، اس کی حکمتیں اور ارتقائی منازل</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة*<br> بتاریخ: 21؍ جون 2023ء / 02؍ ذو الحجہ  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇</p><p>✔️ پچھلی تین فصلوں کا خلاصہ اور چوتھی فصل سے ربط<br>✔️ فصل ۴ میں ارتفاقات (نوعِ انسانی کی سہولتوں کے منظم اور مربوط نظام) کا بیان<br>✔️ ارتفاق کا لغوی و اصطلاحی مفہوم<br>✔️ رحمان ذات کی امام نوعِ انسانی پر بدنِ انسانی کے پہلو سے خاص عنایت<br>✔️  ارتفاقِ اول کی حقیقت؛ انسان کے نوعی فطری تقاضوں کی تکمیل کی پہلی اجتماعی سطح<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کی حقیقت؛ ارتفاقِ اول کے امور کا منظم و مربوط نظام<br>✔️ ارتفاقِ ثانی کے پانچ حکمتیں:<br>✔️ ۱) حکمتِ معاشیہ (زندگی گزارنے کے آداب)<br>✔️ حکمتِ معاشیہ کا سَمتِ صالح سے بڑا گہرا تعلق<br>✔️ ۲) حکمتِ اکتسابیہ (وسائل معاش کے حصول کا نظام)<br>✔️ تین بنیادی پیشوں سے منحرف ذہنیت کا جائزہ<br>✔️ پیشے بننے کے عمل سے متعلق اہم بات<br>✔️ ۳) حکمتِ منزلیہ (گھریلو نظام)<br>✔️ ۴) حکمتِ تعاملیہ (باہمی معاملات)<br>✔️ ۵) حکمتِ تعاونیہ (تعاون باہمی کا نظام)<br>✔️ ارتفاقِ ثالث (ملکی نظام) کی حقیقت<br>✔️ ریاست کی حقیقت نیز صحت و مرض کی حالت اور طبیب کا کام<br>✔️ امام (حکمران) سے شخصِ واحد نہیں بلکہ نظام مراد ہے<br>✔️ ارتفاقِ رابع کی حقیقت<br>✔️ ولی اللہی فلسفے میں نظام کی اصطلاح‘ بڑی اہمیت کی حامل<br>✔️ ارتفاقاتِ اربعہ کا باہمی ربط و تعلق (اِرتقاء انسانیت کی چار منزلیں)<br>✔️ تمام ارتفاقات تہہ بہ تہہ مربوط اور ایک دوسرے جڑے ہوئے ہیں<br>✔️ ارتفاقات سے متعلق دو اہم نکتے<br>✔️ ہر ارتفاق کے بنیادی ارکان اور اعلی معیار کے مُتمِّمات (تکمیلی امور)<br>✔️ ارتفاقات کے مُتمِّمات کے چند قاعدے<br>✔️ زمین میں زیادہ تر فساد اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دو پہلو<br>✔️ طبعی مزاج اور دور کے تقاضوں کے مناسب ارتفاق اختیار نہ کرنے سے متعلق اہم تاریخی جملہ<br>✔️ فساد برپا ہونے کی دوسری بڑی خرابی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 13 | نظام صالح کی تشکیل میں فصاحت، دیانت اور سَمتِ صالح کا کردار</title>
      <itunes:episode>13</itunes:episode>
      <podcast:episode>13</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 13 | نظام صالح کی تشکیل میں فصاحت، دیانت اور سَمتِ صالح کا کردار</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">81e95b11-8d41-4695-8037-d86aa250d48b</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/2f4093e6</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 13<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>نظام صالح کی تشکیل میں فصاحت، دیانت اور سَمتِ صالح کا کردار</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 14؍ جون 2023ء / 24؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ دروس کا ما حصل<br>✔️ پانچواں خُلق؛ فصاحت کی حقیقت<br>✔️ فصاحت و بلاغت کے لیے قوائے اِدراکیّہ کی مضبوطی ضروری<br>✔️ فصاحت کی تعریف<br>✔️ تعریف کی مزید توضیح و تفصیل<br>✔️ انسان کی اِدراکی قوتوں میں ضعف کی تین بنیادی وجوہات<br>✔️ قوائے لسانیہ میں کمزوری کی چند بڑی خرابیاں<br>✔️ بلاغت کی حقیقت<br>✔️ ہر قوم کی بلاغت کا جداگانہ معیار <br>✔️ بلاغت میں عمدہ الفاظ کا چناؤ، ترکیبِ متین اور بہترین اسلوب بیان کار فرماں <br>✔️ عامة الناس کے بلاغی معیارات قابل اعتناء نہیں<br>✔️ کثرت سے اشعار اور سجع بندی کے حافظے کا نام فصاحت نہیں!<br>✔️ کامل و مکمل اور معتدل آدمی کا فصاحت و بلاغت کے پہلو سے جائزہ<br>✔️ چھٹا خُلق؛ دیانت کی حقیقت<br>✔️ جوارح (اعضاء) کا علوم و احوال کی نقل اتارنا <br>✔️ انسان کے اعضاء اور زبان دراصل دل کی آئینہ دار ہیں<br>✔️ دیانت؛ علم و عمل کی دونوں قوتوں کا متفق ہونا<br>✔️ بددیانتی کی دو صورتیں<br>✔️ حضرت سلیمان بن یسارؒ کی دیانت داری اور ورع کا قصّہ<br>✔️ خُلقِ دیانت کے تین ذیلی شعبے؛ ورع، عبادت اور سچائی<br>✔️ ساتواں خُلق؛ سَمتِ صالح کی حقیقت <br>✔️ قلب کے قوام سے مناسبت رکھنے والے دو افعال اور صورتیں<br>✔️ پچھلے چھ اخلاق کا حامل شخص ہی سَمتِ صالح کا خوگر <br>✔️ سَمتِ صالح کے چند ذیلی شعبے؛ حِلم، حیاء اور صبر وغیرہ<br>✔️ فصل ۳ کے ذیل میں اخلاقِ  ناقصہ کے حاملین کی دو قسمیں<br>✔️ جملہ انسانوں میں تمام اخلاق کا اکٹھے پایا جانا ممکن نہیں!<br>✔️ اَخلاقی اِفراط و تفریط کی درستگی کے لیے نظام کی ضرورت<br>✔️ اخلاقِ فاضلہ گم کرنے والوں کی دو صورتیں اور جبیرہ  <br>✔️ نظامِ صالح کے بغیر اخلاق درست نہیں ہوتے!</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 13<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>نظام صالح کی تشکیل میں فصاحت، دیانت اور سَمتِ صالح کا کردار</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 14؍ جون 2023ء / 24؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ دروس کا ما حصل<br>✔️ پانچواں خُلق؛ فصاحت کی حقیقت<br>✔️ فصاحت و بلاغت کے لیے قوائے اِدراکیّہ کی مضبوطی ضروری<br>✔️ فصاحت کی تعریف<br>✔️ تعریف کی مزید توضیح و تفصیل<br>✔️ انسان کی اِدراکی قوتوں میں ضعف کی تین بنیادی وجوہات<br>✔️ قوائے لسانیہ میں کمزوری کی چند بڑی خرابیاں<br>✔️ بلاغت کی حقیقت<br>✔️ ہر قوم کی بلاغت کا جداگانہ معیار <br>✔️ بلاغت میں عمدہ الفاظ کا چناؤ، ترکیبِ متین اور بہترین اسلوب بیان کار فرماں <br>✔️ عامة الناس کے بلاغی معیارات قابل اعتناء نہیں<br>✔️ کثرت سے اشعار اور سجع بندی کے حافظے کا نام فصاحت نہیں!<br>✔️ کامل و مکمل اور معتدل آدمی کا فصاحت و بلاغت کے پہلو سے جائزہ<br>✔️ چھٹا خُلق؛ دیانت کی حقیقت<br>✔️ جوارح (اعضاء) کا علوم و احوال کی نقل اتارنا <br>✔️ انسان کے اعضاء اور زبان دراصل دل کی آئینہ دار ہیں<br>✔️ دیانت؛ علم و عمل کی دونوں قوتوں کا متفق ہونا<br>✔️ بددیانتی کی دو صورتیں<br>✔️ حضرت سلیمان بن یسارؒ کی دیانت داری اور ورع کا قصّہ<br>✔️ خُلقِ دیانت کے تین ذیلی شعبے؛ ورع، عبادت اور سچائی<br>✔️ ساتواں خُلق؛ سَمتِ صالح کی حقیقت <br>✔️ قلب کے قوام سے مناسبت رکھنے والے دو افعال اور صورتیں<br>✔️ پچھلے چھ اخلاق کا حامل شخص ہی سَمتِ صالح کا خوگر <br>✔️ سَمتِ صالح کے چند ذیلی شعبے؛ حِلم، حیاء اور صبر وغیرہ<br>✔️ فصل ۳ کے ذیل میں اخلاقِ  ناقصہ کے حاملین کی دو قسمیں<br>✔️ جملہ انسانوں میں تمام اخلاق کا اکٹھے پایا جانا ممکن نہیں!<br>✔️ اَخلاقی اِفراط و تفریط کی درستگی کے لیے نظام کی ضرورت<br>✔️ اخلاقِ فاضلہ گم کرنے والوں کی دو صورتیں اور جبیرہ  <br>✔️ نظامِ صالح کے بغیر اخلاق درست نہیں ہوتے!</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:50:58 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/2f4093e6/a39f348b.mp3" length="93731709" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/yNPbu4Js8sFza0DAJwnErauZnlbygGw33mccPspqN3U/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS81MWJk/MDM0NjVmNGVlMzM0/NTdhNzhiZDQ1NGE3/ZmYwYi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5843</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 13<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>نظام صالح کی تشکیل میں فصاحت، دیانت اور سَمتِ صالح کا کردار</p><p> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 14؍ جون 2023ء / 24؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ سابقہ دروس کا ما حصل<br>✔️ پانچواں خُلق؛ فصاحت کی حقیقت<br>✔️ فصاحت و بلاغت کے لیے قوائے اِدراکیّہ کی مضبوطی ضروری<br>✔️ فصاحت کی تعریف<br>✔️ تعریف کی مزید توضیح و تفصیل<br>✔️ انسان کی اِدراکی قوتوں میں ضعف کی تین بنیادی وجوہات<br>✔️ قوائے لسانیہ میں کمزوری کی چند بڑی خرابیاں<br>✔️ بلاغت کی حقیقت<br>✔️ ہر قوم کی بلاغت کا جداگانہ معیار <br>✔️ بلاغت میں عمدہ الفاظ کا چناؤ، ترکیبِ متین اور بہترین اسلوب بیان کار فرماں <br>✔️ عامة الناس کے بلاغی معیارات قابل اعتناء نہیں<br>✔️ کثرت سے اشعار اور سجع بندی کے حافظے کا نام فصاحت نہیں!<br>✔️ کامل و مکمل اور معتدل آدمی کا فصاحت و بلاغت کے پہلو سے جائزہ<br>✔️ چھٹا خُلق؛ دیانت کی حقیقت<br>✔️ جوارح (اعضاء) کا علوم و احوال کی نقل اتارنا <br>✔️ انسان کے اعضاء اور زبان دراصل دل کی آئینہ دار ہیں<br>✔️ دیانت؛ علم و عمل کی دونوں قوتوں کا متفق ہونا<br>✔️ بددیانتی کی دو صورتیں<br>✔️ حضرت سلیمان بن یسارؒ کی دیانت داری اور ورع کا قصّہ<br>✔️ خُلقِ دیانت کے تین ذیلی شعبے؛ ورع، عبادت اور سچائی<br>✔️ ساتواں خُلق؛ سَمتِ صالح کی حقیقت <br>✔️ قلب کے قوام سے مناسبت رکھنے والے دو افعال اور صورتیں<br>✔️ پچھلے چھ اخلاق کا حامل شخص ہی سَمتِ صالح کا خوگر <br>✔️ سَمتِ صالح کے چند ذیلی شعبے؛ حِلم، حیاء اور صبر وغیرہ<br>✔️ فصل ۳ کے ذیل میں اخلاقِ  ناقصہ کے حاملین کی دو قسمیں<br>✔️ جملہ انسانوں میں تمام اخلاق کا اکٹھے پایا جانا ممکن نہیں!<br>✔️ اَخلاقی اِفراط و تفریط کی درستگی کے لیے نظام کی ضرورت<br>✔️ اخلاقِ فاضلہ گم کرنے والوں کی دو صورتیں اور جبیرہ  <br>✔️ نظامِ صالح کے بغیر اخلاق درست نہیں ہوتے!</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 12 | سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت</title>
      <itunes:episode>12</itunes:episode>
      <podcast:episode>12</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 12 | سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">9110c6de-c069-49d4-89c5-e8842ed842ec</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/33975ef6</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 12<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 07؍ جون 2023ء / 17؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ تیسرا خُلق؛ سماحت کی لغوی و اصطلاحی تحقیق<br>✔️ ۱) تنگی و طیش دونوں حالتوں میں انسان کا بڑا پن اور قلبی وسعت <br>✔️ ۲) پست عادات و افعال پر کنٹرول اور بچاؤ کی قلبی صلاحیت <br>✔️ حضرت علی المرتضیٰؓ کے شعر سے ’’مطلبِ دنیّ‘‘ کی وضاحت<br>✔️ رجل سَموح کے بالمقابل سات متضاد بداخلاقیوں کے حاملین کا تحلیل و تجزیہ <br>✔️ پہلاآدمی؛ ’’رجلِ غیرِ مُموِّہ‘‘ (کمینگی والی عادات کا اسیر) کی حالت کا جائزہ<br>✔️ دوسرا آدمی؛ رجلِ ضُجور (زُود رَنج) اور ردّیّ الرَجاء (ہلاکت، مغلوبیت اور  ذلت پر مبنی پست امیدوں والا) <br>✔️ تیسرا آدمی؛ رجلِ شَحیح (بخیل) کی حالت <br>✔️ چوتھا آدمی؛ رجل ھَلوع (شر کی صورت میں رونے پیٹنے اور خیر کی صورت میں اکڑنے والا)<br>✔️ پانچواں آدمی؛ رجل اِمَّعہ (موقع پرست و مفاد پرست)<br>✔️ چھٹا آدمی؛ رجلِ عَبوس (غصے اور غم کی وجہ سے ہر وقت ماتھے پر تیور)<br>✔️ ساتواں آدمی؛ ذرا سی بات اور معمولی سی لغزش بھی معاف نہ کرنے والا<br>✔️ رجلِ سَموح کی نمایاں صفات و کردار<br>✔️ رجلِ سَموح کے انتقامی جذبے کے چار پہلو؛ اجتماعی ظلم، مکمل تیاری، جدوجہد و کوشش اور مصلحتِ کلیّہ<br>✔️ عدمِ انتقام کے جذبے کا نام سماحت نہیں!<br>✔️ جوّاد (سخی) کی تعریف نیز شریعت میں رجلِ سموح کے لیے ’’الخُلق الحسن‘‘ کی اصطلاح مستعمل<br>✔️ حدیث میں حسنِ خُلق (سماحت) اور اچھے پڑوس کے دو وصف<br>✔️ چوتھا خُلق؛ شَجاعت (بہادری) کی تعریف<br>✔️ بہادری کا تعلق اجتماعی مفاد اور مصلحتِ بالغہ سے ہے<br>✔️ محض مصلحتِ کلیّہ اور مفادِ عامہ کا علم حاصل کر لینا شجاعت نہیں!<br>✔️ مصیبت و مشقت کے موقع پر کمزور دل آدمی کی بہادری کا معاملہ<br>✔️ بغیر مقصد کے لیے مرنے کے لیے اِقدام کرنا شجاعت نہیں!<br>✔️ بسا اوقات جنگ سے راہِ فرار بھی بہادری ہے<br>✔️ نفسانی خواہشات کا اسیر  بہادر نہیں ہو سکتا!<br>✔️ عزم و ہمت شجاعت کا تکملہ اور ان کا باہمی تعلق<br>✔️ عزم کی تعریف و توضیح نیز عزم اور یقین دونوں برابر وزن رکھتے ہیں<br>✔️ ایک عملی صورت کا پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ پر تردّد و اضطراب کا ہونا عزم کے منافی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 12<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 07؍ جون 2023ء / 17؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ تیسرا خُلق؛ سماحت کی لغوی و اصطلاحی تحقیق<br>✔️ ۱) تنگی و طیش دونوں حالتوں میں انسان کا بڑا پن اور قلبی وسعت <br>✔️ ۲) پست عادات و افعال پر کنٹرول اور بچاؤ کی قلبی صلاحیت <br>✔️ حضرت علی المرتضیٰؓ کے شعر سے ’’مطلبِ دنیّ‘‘ کی وضاحت<br>✔️ رجل سَموح کے بالمقابل سات متضاد بداخلاقیوں کے حاملین کا تحلیل و تجزیہ <br>✔️ پہلاآدمی؛ ’’رجلِ غیرِ مُموِّہ‘‘ (کمینگی والی عادات کا اسیر) کی حالت کا جائزہ<br>✔️ دوسرا آدمی؛ رجلِ ضُجور (زُود رَنج) اور ردّیّ الرَجاء (ہلاکت، مغلوبیت اور  ذلت پر مبنی پست امیدوں والا) <br>✔️ تیسرا آدمی؛ رجلِ شَحیح (بخیل) کی حالت <br>✔️ چوتھا آدمی؛ رجل ھَلوع (شر کی صورت میں رونے پیٹنے اور خیر کی صورت میں اکڑنے والا)<br>✔️ پانچواں آدمی؛ رجل اِمَّعہ (موقع پرست و مفاد پرست)<br>✔️ چھٹا آدمی؛ رجلِ عَبوس (غصے اور غم کی وجہ سے ہر وقت ماتھے پر تیور)<br>✔️ ساتواں آدمی؛ ذرا سی بات اور معمولی سی لغزش بھی معاف نہ کرنے والا<br>✔️ رجلِ سَموح کی نمایاں صفات و کردار<br>✔️ رجلِ سَموح کے انتقامی جذبے کے چار پہلو؛ اجتماعی ظلم، مکمل تیاری، جدوجہد و کوشش اور مصلحتِ کلیّہ<br>✔️ عدمِ انتقام کے جذبے کا نام سماحت نہیں!<br>✔️ جوّاد (سخی) کی تعریف نیز شریعت میں رجلِ سموح کے لیے ’’الخُلق الحسن‘‘ کی اصطلاح مستعمل<br>✔️ حدیث میں حسنِ خُلق (سماحت) اور اچھے پڑوس کے دو وصف<br>✔️ چوتھا خُلق؛ شَجاعت (بہادری) کی تعریف<br>✔️ بہادری کا تعلق اجتماعی مفاد اور مصلحتِ بالغہ سے ہے<br>✔️ محض مصلحتِ کلیّہ اور مفادِ عامہ کا علم حاصل کر لینا شجاعت نہیں!<br>✔️ مصیبت و مشقت کے موقع پر کمزور دل آدمی کی بہادری کا معاملہ<br>✔️ بغیر مقصد کے لیے مرنے کے لیے اِقدام کرنا شجاعت نہیں!<br>✔️ بسا اوقات جنگ سے راہِ فرار بھی بہادری ہے<br>✔️ نفسانی خواہشات کا اسیر  بہادر نہیں ہو سکتا!<br>✔️ عزم و ہمت شجاعت کا تکملہ اور ان کا باہمی تعلق<br>✔️ عزم کی تعریف و توضیح نیز عزم اور یقین دونوں برابر وزن رکھتے ہیں<br>✔️ ایک عملی صورت کا پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ پر تردّد و اضطراب کا ہونا عزم کے منافی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 10:14:46 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/33975ef6/f17f70fc.mp3" length="82640928" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/K3b83tCl1Clkj_uCHG7BTZqvtyqFnt550SfSBRefkzY/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS8yZDk3/OGM2OGQwNDUxMDg0/MjNmYjI3MThiYTQ4/YmU2Ni5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5148</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 12<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ ثانی، فصل 3)<br>(اخلاقِ فاضلہ کے حقائق کا جامع نظریہ)<br>سماحت کی اہمیت، اس کے متضاد سات کرداروں کا تجزیہ اور شجاعت کی حقیقت<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 07؍ جون 2023ء / 17؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ تیسرا خُلق؛ سماحت کی لغوی و اصطلاحی تحقیق<br>✔️ ۱) تنگی و طیش دونوں حالتوں میں انسان کا بڑا پن اور قلبی وسعت <br>✔️ ۲) پست عادات و افعال پر کنٹرول اور بچاؤ کی قلبی صلاحیت <br>✔️ حضرت علی المرتضیٰؓ کے شعر سے ’’مطلبِ دنیّ‘‘ کی وضاحت<br>✔️ رجل سَموح کے بالمقابل سات متضاد بداخلاقیوں کے حاملین کا تحلیل و تجزیہ <br>✔️ پہلاآدمی؛ ’’رجلِ غیرِ مُموِّہ‘‘ (کمینگی والی عادات کا اسیر) کی حالت کا جائزہ<br>✔️ دوسرا آدمی؛ رجلِ ضُجور (زُود رَنج) اور ردّیّ الرَجاء (ہلاکت، مغلوبیت اور  ذلت پر مبنی پست امیدوں والا) <br>✔️ تیسرا آدمی؛ رجلِ شَحیح (بخیل) کی حالت <br>✔️ چوتھا آدمی؛ رجل ھَلوع (شر کی صورت میں رونے پیٹنے اور خیر کی صورت میں اکڑنے والا)<br>✔️ پانچواں آدمی؛ رجل اِمَّعہ (موقع پرست و مفاد پرست)<br>✔️ چھٹا آدمی؛ رجلِ عَبوس (غصے اور غم کی وجہ سے ہر وقت ماتھے پر تیور)<br>✔️ ساتواں آدمی؛ ذرا سی بات اور معمولی سی لغزش بھی معاف نہ کرنے والا<br>✔️ رجلِ سَموح کی نمایاں صفات و کردار<br>✔️ رجلِ سَموح کے انتقامی جذبے کے چار پہلو؛ اجتماعی ظلم، مکمل تیاری، جدوجہد و کوشش اور مصلحتِ کلیّہ<br>✔️ عدمِ انتقام کے جذبے کا نام سماحت نہیں!<br>✔️ جوّاد (سخی) کی تعریف نیز شریعت میں رجلِ سموح کے لیے ’’الخُلق الحسن‘‘ کی اصطلاح مستعمل<br>✔️ حدیث میں حسنِ خُلق (سماحت) اور اچھے پڑوس کے دو وصف<br>✔️ چوتھا خُلق؛ شَجاعت (بہادری) کی تعریف<br>✔️ بہادری کا تعلق اجتماعی مفاد اور مصلحتِ بالغہ سے ہے<br>✔️ محض مصلحتِ کلیّہ اور مفادِ عامہ کا علم حاصل کر لینا شجاعت نہیں!<br>✔️ مصیبت و مشقت کے موقع پر کمزور دل آدمی کی بہادری کا معاملہ<br>✔️ بغیر مقصد کے لیے مرنے کے لیے اِقدام کرنا شجاعت نہیں!<br>✔️ بسا اوقات جنگ سے راہِ فرار بھی بہادری ہے<br>✔️ نفسانی خواہشات کا اسیر  بہادر نہیں ہو سکتا!<br>✔️ عزم و ہمت شجاعت کا تکملہ اور ان کا باہمی تعلق<br>✔️ عزم کی تعریف و توضیح نیز عزم اور یقین دونوں برابر وزن رکھتے ہیں<br>✔️ ایک عملی صورت کا پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ پر تردّد و اضطراب کا ہونا عزم کے منافی</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 11 | انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ</title>
      <itunes:episode>11</itunes:episode>
      <podcast:episode>11</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 11 | انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">4949eaa8-aea8-4ee7-a77f-6df1254b36ac</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/4e01eef6</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 11<br>انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 31؍ مئی 2023ء / 10؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:17 انسان کے مُسلَّمہ سات اخلاقِ فاضلہ<br>0:47  اخلاقِ فاضلہ کی پہلی قسم؛ حکمت کی جامع تعریف<br>10:51 حکمت کی حقیقت کا منطقِ استقرائی کے تناظر میں جائزہ<br>13:08 پہلا مرحلہ؛ ثقیل الروح اور فطین کے فہم و شعور کا فرق<br>17:28 دوسرا مرحلہ؛ سفیہ (بےوقوف) اور مُتفہِّم و مُتبصِّر (نفع و نقصان کو سمجھنے والا)<br>20:42 فہم اور بصیرت میں فرق و امتیاز<br>22:08 تیسرا مرحلہ؛ عدیم الاِحصاء اور مُحصِی و مُدرِک (تمام جزئیات کا ادارک اور جملہ پہلؤوں کوسمیٹنے والے) کے تناظر میں جائزہ<br>26:22 چوتھا مرحلہ؛ جامد القریحہ (جمود طبیعت والا) اور ذکی و صاحبِ حدس (ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے والے سمجھ دار ) میں فرق <br>30:22 پانچواں مرحلہ؛ نائم النفس (آرام طلب) اور مُتیقِّظ (چاک و چست اور محنتی) کی حالت<br>34:20 چھٹا مرحلہ؛ کثیر السہو والغَفَلات اور ضابط کی حالت کا مشاہدہ<br>36:19 ساتواں مرحلہ؛ عدیم الخُبرہ اور خبیر کا حکمت کے تناظر میں فرق<br>39:01 صاحبِ حکمت؛ سات خصوصیات کا حامل شخص<br>40:17 حضرت سندھیؒ کا ان خصوصیات کی بنیاد پر امام شاہ ولی اللہؒ کو حکیم الہند کا لقب دینا<br>41:09 خلاصہ کلام؛ خُلقِ حکمت سے ان سات قسم کی کمیوں و کوتاہیوں کا ازالہ<br>43:01 حضرت مؤلف علامؒ کے ہاں حکمت کا دائرہ کار<br>49:33 حکمتِ بالغہ کا حامل شخص <br>51:15 حکمت‘ علم کی ایک قسم، نہ کہ کسی خاص مسئلے میں کاربند!<br>53:41 حکمت؛ ایسی حالت کا نام‘ جس سے دل رنگین ہوتا ہے<br>57:16 خطاباتِ نافعہ کی وضاحت<br>58:15 علمی صورت کا منقش ہونا یا دور دراز کے احتمالات و تدقیقات کا نام حکمت نہیں!<br>59:59 یہاں حکمتِ عملیہ مراد نیز قرآن و سنت میں یہی اسلوب پیش نظر<br>1:01:30 اخلاقِ فاضلہ کی دوسری قسم؛ عفّت و پاکدامنی کی تعریف<br>1:04:59 عفّت کا تحقیقی جائزہ<br>1:07:41 حواس ظاہرہ کی ارواح کے تقاضے<br>1:09:11 حواس ظاہرہ و باطنہ اور انسانی قوتوں پر اس کے اثرات<br>1:11:04 مشہور جملہ؛ انما الاخلاق بالاحوال لا بالعلوم <br>1:11:32 شہوتِ نفس کے ہاتھوں مغلوب الحال شخص کا معاملہ اور اس کی اصل وجہ<br>1:16:14 عفیف پاکدامن مرد  اور غیر عفیف کا معاملہ<br>1:22:23 عفیفہ (پاک دامن عورت کی) حالت کا جائزہ<br>1:23:35 عورت اور مرد کی عفّت کے فرق کی اصل حقیقت<br>1:25:33 شعر و شاعری، شطرنج اور لذیز کھانوں کے تناظر میں ایک کم درجے کی عفّت<br>1:29:55 عشق‘ عفّت کی ضد جبکہ محبت اور وفاء کا تعلق سماحتِ نفس سے ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 11<br>انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 31؍ مئی 2023ء / 10؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:17 انسان کے مُسلَّمہ سات اخلاقِ فاضلہ<br>0:47  اخلاقِ فاضلہ کی پہلی قسم؛ حکمت کی جامع تعریف<br>10:51 حکمت کی حقیقت کا منطقِ استقرائی کے تناظر میں جائزہ<br>13:08 پہلا مرحلہ؛ ثقیل الروح اور فطین کے فہم و شعور کا فرق<br>17:28 دوسرا مرحلہ؛ سفیہ (بےوقوف) اور مُتفہِّم و مُتبصِّر (نفع و نقصان کو سمجھنے والا)<br>20:42 فہم اور بصیرت میں فرق و امتیاز<br>22:08 تیسرا مرحلہ؛ عدیم الاِحصاء اور مُحصِی و مُدرِک (تمام جزئیات کا ادارک اور جملہ پہلؤوں کوسمیٹنے والے) کے تناظر میں جائزہ<br>26:22 چوتھا مرحلہ؛ جامد القریحہ (جمود طبیعت والا) اور ذکی و صاحبِ حدس (ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے والے سمجھ دار ) میں فرق <br>30:22 پانچواں مرحلہ؛ نائم النفس (آرام طلب) اور مُتیقِّظ (چاک و چست اور محنتی) کی حالت<br>34:20 چھٹا مرحلہ؛ کثیر السہو والغَفَلات اور ضابط کی حالت کا مشاہدہ<br>36:19 ساتواں مرحلہ؛ عدیم الخُبرہ اور خبیر کا حکمت کے تناظر میں فرق<br>39:01 صاحبِ حکمت؛ سات خصوصیات کا حامل شخص<br>40:17 حضرت سندھیؒ کا ان خصوصیات کی بنیاد پر امام شاہ ولی اللہؒ کو حکیم الہند کا لقب دینا<br>41:09 خلاصہ کلام؛ خُلقِ حکمت سے ان سات قسم کی کمیوں و کوتاہیوں کا ازالہ<br>43:01 حضرت مؤلف علامؒ کے ہاں حکمت کا دائرہ کار<br>49:33 حکمتِ بالغہ کا حامل شخص <br>51:15 حکمت‘ علم کی ایک قسم، نہ کہ کسی خاص مسئلے میں کاربند!<br>53:41 حکمت؛ ایسی حالت کا نام‘ جس سے دل رنگین ہوتا ہے<br>57:16 خطاباتِ نافعہ کی وضاحت<br>58:15 علمی صورت کا منقش ہونا یا دور دراز کے احتمالات و تدقیقات کا نام حکمت نہیں!<br>59:59 یہاں حکمتِ عملیہ مراد نیز قرآن و سنت میں یہی اسلوب پیش نظر<br>1:01:30 اخلاقِ فاضلہ کی دوسری قسم؛ عفّت و پاکدامنی کی تعریف<br>1:04:59 عفّت کا تحقیقی جائزہ<br>1:07:41 حواس ظاہرہ کی ارواح کے تقاضے<br>1:09:11 حواس ظاہرہ و باطنہ اور انسانی قوتوں پر اس کے اثرات<br>1:11:04 مشہور جملہ؛ انما الاخلاق بالاحوال لا بالعلوم <br>1:11:32 شہوتِ نفس کے ہاتھوں مغلوب الحال شخص کا معاملہ اور اس کی اصل وجہ<br>1:16:14 عفیف پاکدامن مرد  اور غیر عفیف کا معاملہ<br>1:22:23 عفیفہ (پاک دامن عورت کی) حالت کا جائزہ<br>1:23:35 عورت اور مرد کی عفّت کے فرق کی اصل حقیقت<br>1:25:33 شعر و شاعری، شطرنج اور لذیز کھانوں کے تناظر میں ایک کم درجے کی عفّت<br>1:29:55 عشق‘ عفّت کی ضد جبکہ محبت اور وفاء کا تعلق سماحتِ نفس سے ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 10:13:50 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/4e01eef6/2e166d52.mp3" length="88772322" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/iGkkRxJpXs72KFUitoDj0TMMaldSniEd9Gvjp1Hn9Ag/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9lOGY2/NmNkMmQzNWJhYjM5/ZjU2YzRhNmEwMjkz/MjhiZi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5535</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 11<br>انسانی شخصیت کی تشکیل میں حکمت و عفت کے ارتقائی مراحل کی اہمیت، حکیم الہند امام شاہ ولی اللہؒ کے جامع نظریہ اخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں جائزہ</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 31؍ مئی 2023ء / 10؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:17 انسان کے مُسلَّمہ سات اخلاقِ فاضلہ<br>0:47  اخلاقِ فاضلہ کی پہلی قسم؛ حکمت کی جامع تعریف<br>10:51 حکمت کی حقیقت کا منطقِ استقرائی کے تناظر میں جائزہ<br>13:08 پہلا مرحلہ؛ ثقیل الروح اور فطین کے فہم و شعور کا فرق<br>17:28 دوسرا مرحلہ؛ سفیہ (بےوقوف) اور مُتفہِّم و مُتبصِّر (نفع و نقصان کو سمجھنے والا)<br>20:42 فہم اور بصیرت میں فرق و امتیاز<br>22:08 تیسرا مرحلہ؛ عدیم الاِحصاء اور مُحصِی و مُدرِک (تمام جزئیات کا ادارک اور جملہ پہلؤوں کوسمیٹنے والے) کے تناظر میں جائزہ<br>26:22 چوتھا مرحلہ؛ جامد القریحہ (جمود طبیعت والا) اور ذکی و صاحبِ حدس (ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے والے سمجھ دار ) میں فرق <br>30:22 پانچواں مرحلہ؛ نائم النفس (آرام طلب) اور مُتیقِّظ (چاک و چست اور محنتی) کی حالت<br>34:20 چھٹا مرحلہ؛ کثیر السہو والغَفَلات اور ضابط کی حالت کا مشاہدہ<br>36:19 ساتواں مرحلہ؛ عدیم الخُبرہ اور خبیر کا حکمت کے تناظر میں فرق<br>39:01 صاحبِ حکمت؛ سات خصوصیات کا حامل شخص<br>40:17 حضرت سندھیؒ کا ان خصوصیات کی بنیاد پر امام شاہ ولی اللہؒ کو حکیم الہند کا لقب دینا<br>41:09 خلاصہ کلام؛ خُلقِ حکمت سے ان سات قسم کی کمیوں و کوتاہیوں کا ازالہ<br>43:01 حضرت مؤلف علامؒ کے ہاں حکمت کا دائرہ کار<br>49:33 حکمتِ بالغہ کا حامل شخص <br>51:15 حکمت‘ علم کی ایک قسم، نہ کہ کسی خاص مسئلے میں کاربند!<br>53:41 حکمت؛ ایسی حالت کا نام‘ جس سے دل رنگین ہوتا ہے<br>57:16 خطاباتِ نافعہ کی وضاحت<br>58:15 علمی صورت کا منقش ہونا یا دور دراز کے احتمالات و تدقیقات کا نام حکمت نہیں!<br>59:59 یہاں حکمتِ عملیہ مراد نیز قرآن و سنت میں یہی اسلوب پیش نظر<br>1:01:30 اخلاقِ فاضلہ کی دوسری قسم؛ عفّت و پاکدامنی کی تعریف<br>1:04:59 عفّت کا تحقیقی جائزہ<br>1:07:41 حواس ظاہرہ کی ارواح کے تقاضے<br>1:09:11 حواس ظاہرہ و باطنہ اور انسانی قوتوں پر اس کے اثرات<br>1:11:04 مشہور جملہ؛ انما الاخلاق بالاحوال لا بالعلوم <br>1:11:32 شہوتِ نفس کے ہاتھوں مغلوب الحال شخص کا معاملہ اور اس کی اصل وجہ<br>1:16:14 عفیف پاکدامن مرد  اور غیر عفیف کا معاملہ<br>1:22:23 عفیفہ (پاک دامن عورت کی) حالت کا جائزہ<br>1:23:35 عورت اور مرد کی عفّت کے فرق کی اصل حقیقت<br>1:25:33 شعر و شاعری، شطرنج اور لذیز کھانوں کے تناظر میں ایک کم درجے کی عفّت<br>1:29:55 عشق‘ عفّت کی ضد جبکہ محبت اور وفاء کا تعلق سماحتِ نفس سے ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 10 | نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق</title>
      <itunes:episode>10</itunes:episode>
      <podcast:episode>10</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 10 | نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">0e5c2d91-f5fc-41f4-95c7-93362270cc1e</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/3674046b</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 10<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 24؍ مئی 2023ء / 03؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز خطاب<br>0:15 فصلِ دوم کے نصفِ اول کا خلاصہ؛ نفسِ ناطقہ میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل<br>3:52  قلب کے احکامات و امور میں پہلا حکم؛ ارادہ<br>5:46 اراد ے کی تعریف اور حقیقت<br>11:43  دوسرا حکم؛ حکیمِ دماغی کی معلومات یا دلائل پر قلبی اطمئنان  کا نام‘ عقل<br>20:56 مشہور جملہ ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ نیز عقل کا مقام<br>24:13 عقل و حکمت اور علم و فہم کی حقیقت<br>25:35 تیسرا حکم؛ عشق<br>27:26 عشق‘ فرطِ محبت کا نام نیز اس کے پانچ درجات<br>29:44 عشق کی حقیقت، جسم پر طاری ہونے کا عمل اور قوی و ضعیف قلب کا فیصلہ<br>39:25 ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت اور محبتِ نفسانی میں فرق<br>40:27 چوتھا حکم؛  تیہ و کِبَر اور اِطراح و بے چارگی کی حقیقت<br>50:02 پانچواں حکم؛ دل کی رضا و ناراضگی کی بنیادی وجہ <br>54:30 چھٹا حکم؛ نشاط و خوشی اور حزن وغم  کی بنیادی حقیقت‘ حکیم و مرزبان کے تناظر میں<br> 1:02:06 امام مسلمؒ کی علمی نشاط میں موت واقع<br>1:03:09 ساتواں حکم؛ قلبی فصاحت و دیانت (دین و نظریہ قبول کرنے)  کی حقیقت<br>1:12:46 دل‘ انسانی ریاست کا سربراہ اور باقی اعضاء اس کی رعیت<br>1:14:42 سالک کے قلب کی اصلاح و علاج کی  دو صورتیں<br>1:22:19 قلب کے مسلسل افعال و فیصلوں سے خاص ملکہ حاصل ہونے کی علمی تحقیق<br>1:28:03 خُلق؛ ملکہ راسخہ کا نام <br>1:28:43 نفسِ ناطقہ کی نوعیت کے مطابق ہی اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>1:30:50 تمام مذاہب میں انسانیت کے متفقہ و مسلمہ سات اخلاقِ فاضلہ (تفصیلات اگلے درس میں)</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p><p><br></p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 10<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 24؍ مئی 2023ء / 03؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز خطاب<br>0:15 فصلِ دوم کے نصفِ اول کا خلاصہ؛ نفسِ ناطقہ میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل<br>3:52  قلب کے احکامات و امور میں پہلا حکم؛ ارادہ<br>5:46 اراد ے کی تعریف اور حقیقت<br>11:43  دوسرا حکم؛ حکیمِ دماغی کی معلومات یا دلائل پر قلبی اطمئنان  کا نام‘ عقل<br>20:56 مشہور جملہ ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ نیز عقل کا مقام<br>24:13 عقل و حکمت اور علم و فہم کی حقیقت<br>25:35 تیسرا حکم؛ عشق<br>27:26 عشق‘ فرطِ محبت کا نام نیز اس کے پانچ درجات<br>29:44 عشق کی حقیقت، جسم پر طاری ہونے کا عمل اور قوی و ضعیف قلب کا فیصلہ<br>39:25 ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت اور محبتِ نفسانی میں فرق<br>40:27 چوتھا حکم؛  تیہ و کِبَر اور اِطراح و بے چارگی کی حقیقت<br>50:02 پانچواں حکم؛ دل کی رضا و ناراضگی کی بنیادی وجہ <br>54:30 چھٹا حکم؛ نشاط و خوشی اور حزن وغم  کی بنیادی حقیقت‘ حکیم و مرزبان کے تناظر میں<br> 1:02:06 امام مسلمؒ کی علمی نشاط میں موت واقع<br>1:03:09 ساتواں حکم؛ قلبی فصاحت و دیانت (دین و نظریہ قبول کرنے)  کی حقیقت<br>1:12:46 دل‘ انسانی ریاست کا سربراہ اور باقی اعضاء اس کی رعیت<br>1:14:42 سالک کے قلب کی اصلاح و علاج کی  دو صورتیں<br>1:22:19 قلب کے مسلسل افعال و فیصلوں سے خاص ملکہ حاصل ہونے کی علمی تحقیق<br>1:28:03 خُلق؛ ملکہ راسخہ کا نام <br>1:28:43 نفسِ ناطقہ کی نوعیت کے مطابق ہی اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>1:30:50 تمام مذاہب میں انسانیت کے متفقہ و مسلمہ سات اخلاقِ فاضلہ (تفصیلات اگلے درس میں)</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p><p><br></p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 10:13:16 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/3674046b/d88ad8ad.mp3" length="89649158" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/MvbdgDxwB07F-6NG1sFsDIX1yj0aYayic21yzbcxQww/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83ZDAw/MGFkYmU1MTk3YmQ1/YWM3MjI0ZThmNjk5/MDAwNi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5587</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 10<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>نفسِ ناطقہ میں قلب کی مرکزی حیثیت، اس کے سات احکام اور اخلاقِ فاضلہ سے ربط و تعلق</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 24؍ مئی 2023ء / 03؍ ذی قعدہ  1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز خطاب<br>0:15 فصلِ دوم کے نصفِ اول کا خلاصہ؛ نفسِ ناطقہ میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل<br>3:52  قلب کے احکامات و امور میں پہلا حکم؛ ارادہ<br>5:46 اراد ے کی تعریف اور حقیقت<br>11:43  دوسرا حکم؛ حکیمِ دماغی کی معلومات یا دلائل پر قلبی اطمئنان  کا نام‘ عقل<br>20:56 مشہور جملہ ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ نیز عقل کا مقام<br>24:13 عقل و حکمت اور علم و فہم کی حقیقت<br>25:35 تیسرا حکم؛ عشق<br>27:26 عشق‘ فرطِ محبت کا نام نیز اس کے پانچ درجات<br>29:44 عشق کی حقیقت، جسم پر طاری ہونے کا عمل اور قوی و ضعیف قلب کا فیصلہ<br>39:25 ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت اور محبتِ نفسانی میں فرق<br>40:27 چوتھا حکم؛  تیہ و کِبَر اور اِطراح و بے چارگی کی حقیقت<br>50:02 پانچواں حکم؛ دل کی رضا و ناراضگی کی بنیادی وجہ <br>54:30 چھٹا حکم؛ نشاط و خوشی اور حزن وغم  کی بنیادی حقیقت‘ حکیم و مرزبان کے تناظر میں<br> 1:02:06 امام مسلمؒ کی علمی نشاط میں موت واقع<br>1:03:09 ساتواں حکم؛ قلبی فصاحت و دیانت (دین و نظریہ قبول کرنے)  کی حقیقت<br>1:12:46 دل‘ انسانی ریاست کا سربراہ اور باقی اعضاء اس کی رعیت<br>1:14:42 سالک کے قلب کی اصلاح و علاج کی  دو صورتیں<br>1:22:19 قلب کے مسلسل افعال و فیصلوں سے خاص ملکہ حاصل ہونے کی علمی تحقیق<br>1:28:03 خُلق؛ ملکہ راسخہ کا نام <br>1:28:43 نفسِ ناطقہ کی نوعیت کے مطابق ہی اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>1:30:50 تمام مذاہب میں انسانیت کے متفقہ و مسلمہ سات اخلاقِ فاضلہ (تفصیلات اگلے درس میں)</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p><p><br></p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 09 | نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ</title>
      <itunes:episode>9</itunes:episode>
      <podcast:episode>9</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 09 | نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">2e809687-ab75-4ab6-930a-6ccaa0076578</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/ff301867</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 09</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>(نفسِ ناطقہ اور قلب  کی حقیقت و دائرۂ کار)<br>نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 17؍ مئی 2023ء / 26 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br> پچھلے درس کا خلاصہ؛ پہلی فصل میں فلسفۂ اخلاق کا بیان<br>✔️ دوسری فصل کے عنوان (نفسِ ناطقہ اور قلب) کی وضاحت<br>✔️ نفسِ ناطقہ حقیقت؛ روح ملکوتی اور روح حیوانی کے باہمی ملاپ کا مرکز<br>✔️ نفسِ ناطقہ فرد کی ”صورتِ شخصیہ“ کا نام<br>✔️ صورۃِ شخصیہ کا پہلا انحصار جسم لطیف (نسمہ) پر ہے<br>✔️  ”نسمہ“ کی اصطلاحی وضاحت<br>✔️ نسمہ کی تعریف؛   کثیف بدن میں سرایت کر جانے والا لطیف و مربوط  بدن<br>✔️  قوتوں اور اخلاق کے تناظر میں جسم میں نسمہ بننے کا عمل<br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کی دماغ  کی طرف سپلائی اور حواسِ خمسہ ظاہرہ و باطنہ سے مخصوص افعال و احکامات کا اظہار<br>✔️ حواسِ خمسہ باطنہ کے احکامات پورے جسم سے تعلق رکھتے ہیں <br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کا جگر کی طرف بہاؤ نیز تین اعضائے رئیسہ اور بدنی قوتوں کے افعال و اعمال<br>✔️  قوائے قلب و دماغ کے باہمی تشابک کی وضاحت<br>✔️ نسمہ ایک ”شہری نظام“، دل صورتِ شخصیہ کا ’’حاکم و بادشاہ‘‘ اور جگر ”محافظ“<br>✔️ اور دماغ دل کا ’’وزیر‘‘ اور حواسِ ظاہرہ و باطنہ دماغ کے جاسوس<br>✔️ قلب کی حقیقت؛ خود مختار حاکم، حکم نافذ العمل اور ماتحتوں کے لیے نافرمانی ناممکن<br>✔️ مملکتِ شخصیہ کے نظام کی تباہی و بربادی؛ ماتحت (جگر و دماغ) کا دل (سردار) پر حاوی ہونا<br>✔️ طاقت ور مُعاونین کے ہاتھوں مجبور اور کمزور دل کے فیصلوں کا تحلیل و تجزیہ<br>✔️ وزیر کے کارندوں کی بغاوت اور کمزور دل کا بے اعتدالی و گناہ کا فیصلہ<br>✔️ مضبوط دل‘ جگر و دماغ اور اس کے کارندوں کے غلط تقاضوں کو ردّ کر دیتا ہے<br>✔️ تبدیلی نظام کے لیے انقلابِ ذات کی ناگزیریت<br>✔️ انقلابِ ذات کے لیے قلب کی مضبوطی لازمی نیز مضبوطی قلب کے اذکار و اشغال<br>✔️ مضبوط و مستحکم  دل والوں کی جماعت ہی  صحیح نظام بنا سکتی ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 09</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>(نفسِ ناطقہ اور قلب  کی حقیقت و دائرۂ کار)<br>نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 17؍ مئی 2023ء / 26 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br> پچھلے درس کا خلاصہ؛ پہلی فصل میں فلسفۂ اخلاق کا بیان<br>✔️ دوسری فصل کے عنوان (نفسِ ناطقہ اور قلب) کی وضاحت<br>✔️ نفسِ ناطقہ حقیقت؛ روح ملکوتی اور روح حیوانی کے باہمی ملاپ کا مرکز<br>✔️ نفسِ ناطقہ فرد کی ”صورتِ شخصیہ“ کا نام<br>✔️ صورۃِ شخصیہ کا پہلا انحصار جسم لطیف (نسمہ) پر ہے<br>✔️  ”نسمہ“ کی اصطلاحی وضاحت<br>✔️ نسمہ کی تعریف؛   کثیف بدن میں سرایت کر جانے والا لطیف و مربوط  بدن<br>✔️  قوتوں اور اخلاق کے تناظر میں جسم میں نسمہ بننے کا عمل<br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کی دماغ  کی طرف سپلائی اور حواسِ خمسہ ظاہرہ و باطنہ سے مخصوص افعال و احکامات کا اظہار<br>✔️ حواسِ خمسہ باطنہ کے احکامات پورے جسم سے تعلق رکھتے ہیں <br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کا جگر کی طرف بہاؤ نیز تین اعضائے رئیسہ اور بدنی قوتوں کے افعال و اعمال<br>✔️  قوائے قلب و دماغ کے باہمی تشابک کی وضاحت<br>✔️ نسمہ ایک ”شہری نظام“، دل صورتِ شخصیہ کا ’’حاکم و بادشاہ‘‘ اور جگر ”محافظ“<br>✔️ اور دماغ دل کا ’’وزیر‘‘ اور حواسِ ظاہرہ و باطنہ دماغ کے جاسوس<br>✔️ قلب کی حقیقت؛ خود مختار حاکم، حکم نافذ العمل اور ماتحتوں کے لیے نافرمانی ناممکن<br>✔️ مملکتِ شخصیہ کے نظام کی تباہی و بربادی؛ ماتحت (جگر و دماغ) کا دل (سردار) پر حاوی ہونا<br>✔️ طاقت ور مُعاونین کے ہاتھوں مجبور اور کمزور دل کے فیصلوں کا تحلیل و تجزیہ<br>✔️ وزیر کے کارندوں کی بغاوت اور کمزور دل کا بے اعتدالی و گناہ کا فیصلہ<br>✔️ مضبوط دل‘ جگر و دماغ اور اس کے کارندوں کے غلط تقاضوں کو ردّ کر دیتا ہے<br>✔️ تبدیلی نظام کے لیے انقلابِ ذات کی ناگزیریت<br>✔️ انقلابِ ذات کے لیے قلب کی مضبوطی لازمی نیز مضبوطی قلب کے اذکار و اشغال<br>✔️ مضبوط و مستحکم  دل والوں کی جماعت ہی  صحیح نظام بنا سکتی ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 11:19:54 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/ff301867/c8d681a4.mp3" length="73288862" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/4Q2PPumL7x1MkhP00eGvmZ2pmUOl-c3EIvSmThTt30w/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS8wMzE1/OTQyYWI1YzZkMGQx/MmU2MWJhOTVhZWUx/YTlmNi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>4567</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 09</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)<br>(نفسِ ناطقہ اور قلب  کی حقیقت و دائرۂ کار)<br>نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ: 17؍ مئی 2023ء / 26 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br> پچھلے درس کا خلاصہ؛ پہلی فصل میں فلسفۂ اخلاق کا بیان<br>✔️ دوسری فصل کے عنوان (نفسِ ناطقہ اور قلب) کی وضاحت<br>✔️ نفسِ ناطقہ حقیقت؛ روح ملکوتی اور روح حیوانی کے باہمی ملاپ کا مرکز<br>✔️ نفسِ ناطقہ فرد کی ”صورتِ شخصیہ“ کا نام<br>✔️ صورۃِ شخصیہ کا پہلا انحصار جسم لطیف (نسمہ) پر ہے<br>✔️  ”نسمہ“ کی اصطلاحی وضاحت<br>✔️ نسمہ کی تعریف؛   کثیف بدن میں سرایت کر جانے والا لطیف و مربوط  بدن<br>✔️  قوتوں اور اخلاق کے تناظر میں جسم میں نسمہ بننے کا عمل<br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کی دماغ  کی طرف سپلائی اور حواسِ خمسہ ظاہرہ و باطنہ سے مخصوص افعال و احکامات کا اظہار<br>✔️ حواسِ خمسہ باطنہ کے احکامات پورے جسم سے تعلق رکھتے ہیں <br>✔️ دل سے خون کے ایک حصے کا جگر کی طرف بہاؤ نیز تین اعضائے رئیسہ اور بدنی قوتوں کے افعال و اعمال<br>✔️  قوائے قلب و دماغ کے باہمی تشابک کی وضاحت<br>✔️ نسمہ ایک ”شہری نظام“، دل صورتِ شخصیہ کا ’’حاکم و بادشاہ‘‘ اور جگر ”محافظ“<br>✔️ اور دماغ دل کا ’’وزیر‘‘ اور حواسِ ظاہرہ و باطنہ دماغ کے جاسوس<br>✔️ قلب کی حقیقت؛ خود مختار حاکم، حکم نافذ العمل اور ماتحتوں کے لیے نافرمانی ناممکن<br>✔️ مملکتِ شخصیہ کے نظام کی تباہی و بربادی؛ ماتحت (جگر و دماغ) کا دل (سردار) پر حاوی ہونا<br>✔️ طاقت ور مُعاونین کے ہاتھوں مجبور اور کمزور دل کے فیصلوں کا تحلیل و تجزیہ<br>✔️ وزیر کے کارندوں کی بغاوت اور کمزور دل کا بے اعتدالی و گناہ کا فیصلہ<br>✔️ مضبوط دل‘ جگر و دماغ اور اس کے کارندوں کے غلط تقاضوں کو ردّ کر دیتا ہے<br>✔️ تبدیلی نظام کے لیے انقلابِ ذات کی ناگزیریت<br>✔️ انقلابِ ذات کے لیے قلب کی مضبوطی لازمی نیز مضبوطی قلب کے اذکار و اشغال<br>✔️ مضبوط و مستحکم  دل والوں کی جماعت ہی  صحیح نظام بنا سکتی ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 08 | انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار</title>
      <itunes:episode>8</itunes:episode>
      <podcast:episode>8</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 08 | انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">305a0d39-cb6d-4095-af19-96f73a065809</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/6a38dbe7</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 08<br>انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار، امام نوع اور عنایت ازلی کے تناظر میں</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 10؍ مئی 2023ء / 19 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> <br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ پچھلے درس کا خلاصہ؛ انسانی اخلاق کا فلسفہ<br>✔️ حیوان  کی خصوصیات اور انسان کے امتیازات<br>✔️  فلسفۂ اخلاق کے اصول کی وضاحت<br>✔️ تین اصول‘ رائے کلی، حبِ جمال اور ایجاد و تقلید کی بنیاد پر حیوان سے امتیاز<br>✔️ رائے کلّی، غضب اور شجاعت کا فلسفۂ اخلاق نیز ”شجاعت“ کی تعریف<br>✔️ اچھے اور برے ہونے کے اعتبار سے غضب اور شجاعت میں حدِّ فاصل نیز شجاعت کی اہمیّت<br>✔️ حکمت: رائے کلّی اور علم ذریعے ’’تکمّل بالاخلاق“<br>✔️ ظرافت و حبِّ جمال سے علوم میں تفنّن و تنوّع اور عمدگی و رسوخ<br>✔️ مضبوط آواز میں ”ظرافت“ سے بلاغت اور واضح کلام کا حصول<br>✔️ رائے کلّی، تکمّل بالأخلاق اور مضبوط آواز سے فصاحت پر مبنی نئے اَسرار و حِکَم<br>✔️ رائے کلّی سے تکبّر و انا پرستی کی تہذیب سے ”سماحت“ و ”وسعتِ قلبی“ کا خلق حاصل<br>✔️ ”تکبّر و انا پرستی“ میں ”ظرافت“ شامل ہو جائے تو اسے ”سخاوت“، ”درگذر“ وغیرہ اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>✔️ ”نسوانیت کی طرف میلان“ کے جذبے کو رائے کلّی ”عفّت“ میں بدل دیتی ہے۔<br>✔️ حاکم اور فقیر کی حیثیت سے اچھے اور برے اخلاق میں فرق و تمیز کا قانون<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے چار آفاقی معیار<br>✔️ انسان کی دو عقلیں: عقلِ معاشی اور عقلِ معادی اور ان کا الگ الگ دائرہ کار<br>✔️ انسانی وجود کے چار خاص مراتب: وجودِ مثالی، وجودِ روحانی، اور وجودِ عینی<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے حوالہ سے شعور اور مہارت ضروری ہے<br>✔️ انبیاء، اولیاء اور سبھی انسانوں کے تمام علوم عنایتِ ازلی سے ہیں<br>✔️عنایتِ اجمالی ایک ہے، مگر افراد میں آسمانی و زمینی اسباب کی وجہ سے فرق آتا ہے<br>✔️ عنایت تو ازلی و وحدانی ہے الگ الگ زمانوں میں نت نیا ظہور ظاہری چیز ہے<br>✔️ علومِ کسبیہ بھی عنایتِ ازلی سے آتے ہیں<br>✔️ حاصلِ مطلب</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 08<br>انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار، امام نوع اور عنایت ازلی کے تناظر میں</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 10؍ مئی 2023ء / 19 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> <br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ پچھلے درس کا خلاصہ؛ انسانی اخلاق کا فلسفہ<br>✔️ حیوان  کی خصوصیات اور انسان کے امتیازات<br>✔️  فلسفۂ اخلاق کے اصول کی وضاحت<br>✔️ تین اصول‘ رائے کلی، حبِ جمال اور ایجاد و تقلید کی بنیاد پر حیوان سے امتیاز<br>✔️ رائے کلّی، غضب اور شجاعت کا فلسفۂ اخلاق نیز ”شجاعت“ کی تعریف<br>✔️ اچھے اور برے ہونے کے اعتبار سے غضب اور شجاعت میں حدِّ فاصل نیز شجاعت کی اہمیّت<br>✔️ حکمت: رائے کلّی اور علم ذریعے ’’تکمّل بالاخلاق“<br>✔️ ظرافت و حبِّ جمال سے علوم میں تفنّن و تنوّع اور عمدگی و رسوخ<br>✔️ مضبوط آواز میں ”ظرافت“ سے بلاغت اور واضح کلام کا حصول<br>✔️ رائے کلّی، تکمّل بالأخلاق اور مضبوط آواز سے فصاحت پر مبنی نئے اَسرار و حِکَم<br>✔️ رائے کلّی سے تکبّر و انا پرستی کی تہذیب سے ”سماحت“ و ”وسعتِ قلبی“ کا خلق حاصل<br>✔️ ”تکبّر و انا پرستی“ میں ”ظرافت“ شامل ہو جائے تو اسے ”سخاوت“، ”درگذر“ وغیرہ اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>✔️ ”نسوانیت کی طرف میلان“ کے جذبے کو رائے کلّی ”عفّت“ میں بدل دیتی ہے۔<br>✔️ حاکم اور فقیر کی حیثیت سے اچھے اور برے اخلاق میں فرق و تمیز کا قانون<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے چار آفاقی معیار<br>✔️ انسان کی دو عقلیں: عقلِ معاشی اور عقلِ معادی اور ان کا الگ الگ دائرہ کار<br>✔️ انسانی وجود کے چار خاص مراتب: وجودِ مثالی، وجودِ روحانی، اور وجودِ عینی<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے حوالہ سے شعور اور مہارت ضروری ہے<br>✔️ انبیاء، اولیاء اور سبھی انسانوں کے تمام علوم عنایتِ ازلی سے ہیں<br>✔️عنایتِ اجمالی ایک ہے، مگر افراد میں آسمانی و زمینی اسباب کی وجہ سے فرق آتا ہے<br>✔️ عنایت تو ازلی و وحدانی ہے الگ الگ زمانوں میں نت نیا ظہور ظاہری چیز ہے<br>✔️ علومِ کسبیہ بھی عنایتِ ازلی سے آتے ہیں<br>✔️ حاصلِ مطلب</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 19:57:00 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/6a38dbe7/4e91a5b9.mp3" length="81380540" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/3K--6Zlou-XgDFYwYlKDqD8EnQCseKtcj3kVu3wAVIY/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS84ZTli/NTE0ODk5MDRlYjU2/ZTNlMjU1ZTliNTU3/MjRlYy5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5074</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس : 08<br>انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار، امام نوع اور عنایت ازلی کے تناظر میں</p><p>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)<br> مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br>بتاریخ : 10؍ مئی 2023ء / 19 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> <br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ پچھلے درس کا خلاصہ؛ انسانی اخلاق کا فلسفہ<br>✔️ حیوان  کی خصوصیات اور انسان کے امتیازات<br>✔️  فلسفۂ اخلاق کے اصول کی وضاحت<br>✔️ تین اصول‘ رائے کلی، حبِ جمال اور ایجاد و تقلید کی بنیاد پر حیوان سے امتیاز<br>✔️ رائے کلّی، غضب اور شجاعت کا فلسفۂ اخلاق نیز ”شجاعت“ کی تعریف<br>✔️ اچھے اور برے ہونے کے اعتبار سے غضب اور شجاعت میں حدِّ فاصل نیز شجاعت کی اہمیّت<br>✔️ حکمت: رائے کلّی اور علم ذریعے ’’تکمّل بالاخلاق“<br>✔️ ظرافت و حبِّ جمال سے علوم میں تفنّن و تنوّع اور عمدگی و رسوخ<br>✔️ مضبوط آواز میں ”ظرافت“ سے بلاغت اور واضح کلام کا حصول<br>✔️ رائے کلّی، تکمّل بالأخلاق اور مضبوط آواز سے فصاحت پر مبنی نئے اَسرار و حِکَم<br>✔️ رائے کلّی سے تکبّر و انا پرستی کی تہذیب سے ”سماحت“ و ”وسعتِ قلبی“ کا خلق حاصل<br>✔️ ”تکبّر و انا پرستی“ میں ”ظرافت“ شامل ہو جائے تو اسے ”سخاوت“، ”درگذر“ وغیرہ اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں<br>✔️ ”نسوانیت کی طرف میلان“ کے جذبے کو رائے کلّی ”عفّت“ میں بدل دیتی ہے۔<br>✔️ حاکم اور فقیر کی حیثیت سے اچھے اور برے اخلاق میں فرق و تمیز کا قانون<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے چار آفاقی معیار<br>✔️ انسان کی دو عقلیں: عقلِ معاشی اور عقلِ معادی اور ان کا الگ الگ دائرہ کار<br>✔️ انسانی وجود کے چار خاص مراتب: وجودِ مثالی، وجودِ روحانی، اور وجودِ عینی<br>✔️ فلسفۂ اخلاق کے حوالہ سے شعور اور مہارت ضروری ہے<br>✔️ انبیاء، اولیاء اور سبھی انسانوں کے تمام علوم عنایتِ ازلی سے ہیں<br>✔️عنایتِ اجمالی ایک ہے، مگر افراد میں آسمانی و زمینی اسباب کی وجہ سے فرق آتا ہے<br>✔️ عنایت تو ازلی و وحدانی ہے الگ الگ زمانوں میں نت نیا ظہور ظاہری چیز ہے<br>✔️ علومِ کسبیہ بھی عنایتِ ازلی سے آتے ہیں<br>✔️ حاصلِ مطلب</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 07 | تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور  | مفتی عبد الخالق آزاد</title>
      <itunes:episode>7</itunes:episode>
      <podcast:episode>7</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 07 | تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور  | مفتی عبد الخالق آزاد</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">43182493-31e3-4ddb-b727-55758685f602</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/f928b743</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 07<br>تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور اور انسانی وجود کے مراحل ونوعی خصوصیات اور نمونہ معیار<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 03؍ مئی 2023ء / 12 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>  ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:28 پچھلے دروس کا حاصل یعنی مقدمۂ کتاب کے مضامین کا خلاصہ<br>1:47 1۔ ”الرحمن“ ہی وہ شانِ خداوندی ہے جسے فلاسفہ ”وجود اقصیٰ“ کہتے ہیں<br>3:14 2۔ تمام موجودات و مخلوقات رحمان تعالیٰ کی حقیقتِ واحدہ کے احاطہ کے تحت ایک وحدت ہے<br>4:00 3۔ وحدتِ کائنات میں سب مخلوقات میں افضل انسان اور تمام افرادِ انسانی خصوصیات میں متحد و متفق ہو کر ایک وحدت ہیں<br>5:15 4۔ تمام مخلوقات براہِ راست ”الرحمٰن“ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں<br>6:47 5۔ انسانوں کی خصوصیات امام نوعِ انسانی کے تحت ہیں نیز امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت<br>9:17 6۔ ہر نوع کے افراد میں پائی جانے والی خصوصیات اس نوع کے امام کے تحت ہیں اور یہ وحدۃ الوجود ہے۔<br>12:02 7۔ انسانی وجود کے چار مراحل اور ہر مرحلے کی خصوصیات<br>13:19 تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے انسانی وجود کے پانچ مراحل کی وضاحت، پہلا مرحلہ؛ امام الَاعیان<br>16:50 دوسرا مرحلہ؛ عینِ انسانی کا وجود<br>20:12 تیسرا مرحلہ؛ وجودِ روحانی (مرتبۂ عقلیہ)<br>21:36 چوتھا مرحلہ؛ وجودِ مثالی<br>22:53 پانچواں مرحلہ؛ وجودِ ناسوتی اور صورتِ شخصیہ کا فیضان<br>25:00 اس حقیقی پسِ منظر کے پیشِ نظر انسان کی کامیابی کا آئین و قانون کیا ہونا چاہئے؟<br>25:47 انسان کی مجموعی کامیابی پر مشتمل کتاب کے تین مقالات<br>27:09 پہلا مقالہ؛ امامِ نوعِ انسانی کی طرف سے انسانی طبیعتوں میں اترنے والے احکام اور ان کی اساس پر وجود میں آنے والے انسانی اخلاق،ارتفاقات اور نظامات<br>27:49 بدورِ بازغہ کے پہلے مقالے کی مباحث کا اجمالی جائزہ<br>30:02 پہلے مقالے کی آخر بحث؛ مزاجِ انسانی<br>31:43 فصلِ اولّ: نوعِ حیوانی کی خصوصیات اور پھر اس میں نوعِ انسانی کے امتیازات<br>33:04 1۔ نوعِ حیوانی میں دو طرح کے خاص آثار<br>33:45 نوعِ حیوانی کے آثارِ ظاہرہ؛ مخصوص رنگ، شکل، مقدار اور شکل و صورت<br>35:24 نوعِ حیوانی کے آثارِ باطنہ؛ مخصوص درجے کا  ادراک اور ضروریات پوری کرنے کا فہم<br>41:05 2۔ شہد کی مکھی اور چڑیا کی زندگی‘ مخصوص ادراک اور فہم  کی واضح مثال<br>42:58 3۔ فلسفیوں کے غلط  تصور پر عقلی سوال اور ان کی کمزور اور غلط رائے کی تردید<br>44:13 اس سے بڑھ کر کمزور اور غلط رائے اور کیا ہو گی کہ ان نوعی خصوصیات کو مان کر بھی صورۃِ نوعیہ اور امامِ نوع کے تقاضے اور نظام کو نہ مانا جائے۔<br>47:33 یہ دراصل شاہ صاحبؒ نے میبذی کے غلط تصور کا رد کیا ہے<br>48:52 نوعِ انسانی کی حیوانی اَنواع  سے اصولی امتیازات<br>49:53 انسانی خواص؛ اجتماعی مفاد کا جذبہ، گویائی، لکھنے کی صلاحیت اور ظرافت (انسانوں کی امتیازی خصوصیات کے تین اصول)<br>50:34 1 ۔ اجتماعی مفاد کا جذبہ<br>51:10 جانور اور انسان کے انبعاث و ابھار میں بنیادی فرق<br>55:47 2۔ ظرافت(حُبِّ جمال اور مہارت و عمدگی)<br>56:07 جانور اور انسان کی ظرافتِ طبعی میں بڑا فرق<br>57:38 3۔ ایجاد و تقلید، یعنی اخلاق و علوم کی ترقی کے ذریعے اپنی تکمیل کے لئے کام کرنا<br>58:23 حیوانی علوم اور انسانی علوم میں فرق و امتیاز<br>59:52 حجۃ اللہ البالغہ کی عبارت سے ایجاد و تقلید کی تفصیل<br>1:00:56 انسان کے مخصوص آثار کی بنیاد یہی تین اصولوں<br>1:01:56 نوعِ حیوانی و نوعِ انسانی کے افراد کے کمال کا معیار  کیا ہے؟<br>1:03:25 جس فردِ انسانی میں کامل درجہ کی صلابت، اتّصال اور صفائیت ہو گی وہی کامل و اکمل انسان ہو گا<br>1:04:46 انسانوں میں کامل ترین شخص کا معیار<br>1:06:12 انسانی زندگی کے لئے  معیار اور قانون کون بنے گا؟<br>1:06:57 اصل سوال: انسانوں میں اخلاق کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟<br>1:08:46 انسانی زندگی کے مرحلے میں اکمل انسان ہی معیار اور قانون ہے<br>1:09:29 ارتفاقات و اقترابات کے اصولی مراحل میں حضرت ابراہیم ؑمعیار اور قانون ہیں<br>1:12:26 معرفتِ الٰہی اور جزائے اعمال کے مراتب کو سمجھنے کے لئے ایک واضح مثال<br>1:13:38 اچھے ماحول میں پرورش پانے والے نَر چوپائے کی جسمانی خصوصیات<br>1:15:54 ایسے نر جانور کی روحِ حیوانی کے امتیازی خصائص<br>1:18:11 ”يحِبُّ الرّياسة“ کی تشریح<br>1:19:50 بعض افراد اس مثالی  فرد سے کم تر ہوتے ہیں؛ دو بنیادی وجوہات<br>1:22:08 حیوانی صفات پر انسان کو قیاس کر لو! یہی فلسفۂ اخلاق ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 07<br>تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور اور انسانی وجود کے مراحل ونوعی خصوصیات اور نمونہ معیار<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 03؍ مئی 2023ء / 12 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>  ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:28 پچھلے دروس کا حاصل یعنی مقدمۂ کتاب کے مضامین کا خلاصہ<br>1:47 1۔ ”الرحمن“ ہی وہ شانِ خداوندی ہے جسے فلاسفہ ”وجود اقصیٰ“ کہتے ہیں<br>3:14 2۔ تمام موجودات و مخلوقات رحمان تعالیٰ کی حقیقتِ واحدہ کے احاطہ کے تحت ایک وحدت ہے<br>4:00 3۔ وحدتِ کائنات میں سب مخلوقات میں افضل انسان اور تمام افرادِ انسانی خصوصیات میں متحد و متفق ہو کر ایک وحدت ہیں<br>5:15 4۔ تمام مخلوقات براہِ راست ”الرحمٰن“ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں<br>6:47 5۔ انسانوں کی خصوصیات امام نوعِ انسانی کے تحت ہیں نیز امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت<br>9:17 6۔ ہر نوع کے افراد میں پائی جانے والی خصوصیات اس نوع کے امام کے تحت ہیں اور یہ وحدۃ الوجود ہے۔<br>12:02 7۔ انسانی وجود کے چار مراحل اور ہر مرحلے کی خصوصیات<br>13:19 تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے انسانی وجود کے پانچ مراحل کی وضاحت، پہلا مرحلہ؛ امام الَاعیان<br>16:50 دوسرا مرحلہ؛ عینِ انسانی کا وجود<br>20:12 تیسرا مرحلہ؛ وجودِ روحانی (مرتبۂ عقلیہ)<br>21:36 چوتھا مرحلہ؛ وجودِ مثالی<br>22:53 پانچواں مرحلہ؛ وجودِ ناسوتی اور صورتِ شخصیہ کا فیضان<br>25:00 اس حقیقی پسِ منظر کے پیشِ نظر انسان کی کامیابی کا آئین و قانون کیا ہونا چاہئے؟<br>25:47 انسان کی مجموعی کامیابی پر مشتمل کتاب کے تین مقالات<br>27:09 پہلا مقالہ؛ امامِ نوعِ انسانی کی طرف سے انسانی طبیعتوں میں اترنے والے احکام اور ان کی اساس پر وجود میں آنے والے انسانی اخلاق،ارتفاقات اور نظامات<br>27:49 بدورِ بازغہ کے پہلے مقالے کی مباحث کا اجمالی جائزہ<br>30:02 پہلے مقالے کی آخر بحث؛ مزاجِ انسانی<br>31:43 فصلِ اولّ: نوعِ حیوانی کی خصوصیات اور پھر اس میں نوعِ انسانی کے امتیازات<br>33:04 1۔ نوعِ حیوانی میں دو طرح کے خاص آثار<br>33:45 نوعِ حیوانی کے آثارِ ظاہرہ؛ مخصوص رنگ، شکل، مقدار اور شکل و صورت<br>35:24 نوعِ حیوانی کے آثارِ باطنہ؛ مخصوص درجے کا  ادراک اور ضروریات پوری کرنے کا فہم<br>41:05 2۔ شہد کی مکھی اور چڑیا کی زندگی‘ مخصوص ادراک اور فہم  کی واضح مثال<br>42:58 3۔ فلسفیوں کے غلط  تصور پر عقلی سوال اور ان کی کمزور اور غلط رائے کی تردید<br>44:13 اس سے بڑھ کر کمزور اور غلط رائے اور کیا ہو گی کہ ان نوعی خصوصیات کو مان کر بھی صورۃِ نوعیہ اور امامِ نوع کے تقاضے اور نظام کو نہ مانا جائے۔<br>47:33 یہ دراصل شاہ صاحبؒ نے میبذی کے غلط تصور کا رد کیا ہے<br>48:52 نوعِ انسانی کی حیوانی اَنواع  سے اصولی امتیازات<br>49:53 انسانی خواص؛ اجتماعی مفاد کا جذبہ، گویائی، لکھنے کی صلاحیت اور ظرافت (انسانوں کی امتیازی خصوصیات کے تین اصول)<br>50:34 1 ۔ اجتماعی مفاد کا جذبہ<br>51:10 جانور اور انسان کے انبعاث و ابھار میں بنیادی فرق<br>55:47 2۔ ظرافت(حُبِّ جمال اور مہارت و عمدگی)<br>56:07 جانور اور انسان کی ظرافتِ طبعی میں بڑا فرق<br>57:38 3۔ ایجاد و تقلید، یعنی اخلاق و علوم کی ترقی کے ذریعے اپنی تکمیل کے لئے کام کرنا<br>58:23 حیوانی علوم اور انسانی علوم میں فرق و امتیاز<br>59:52 حجۃ اللہ البالغہ کی عبارت سے ایجاد و تقلید کی تفصیل<br>1:00:56 انسان کے مخصوص آثار کی بنیاد یہی تین اصولوں<br>1:01:56 نوعِ حیوانی و نوعِ انسانی کے افراد کے کمال کا معیار  کیا ہے؟<br>1:03:25 جس فردِ انسانی میں کامل درجہ کی صلابت، اتّصال اور صفائیت ہو گی وہی کامل و اکمل انسان ہو گا<br>1:04:46 انسانوں میں کامل ترین شخص کا معیار<br>1:06:12 انسانی زندگی کے لئے  معیار اور قانون کون بنے گا؟<br>1:06:57 اصل سوال: انسانوں میں اخلاق کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟<br>1:08:46 انسانی زندگی کے مرحلے میں اکمل انسان ہی معیار اور قانون ہے<br>1:09:29 ارتفاقات و اقترابات کے اصولی مراحل میں حضرت ابراہیم ؑمعیار اور قانون ہیں<br>1:12:26 معرفتِ الٰہی اور جزائے اعمال کے مراتب کو سمجھنے کے لئے ایک واضح مثال<br>1:13:38 اچھے ماحول میں پرورش پانے والے نَر چوپائے کی جسمانی خصوصیات<br>1:15:54 ایسے نر جانور کی روحِ حیوانی کے امتیازی خصائص<br>1:18:11 ”يحِبُّ الرّياسة“ کی تشریح<br>1:19:50 بعض افراد اس مثالی  فرد سے کم تر ہوتے ہیں؛ دو بنیادی وجوہات<br>1:22:08 حیوانی صفات پر انسان کو قیاس کر لو! یہی فلسفۂ اخلاق ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 19:55:46 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/f928b743/d9b8bf10.mp3" length="87463780" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/_Kr255CpOWYMqvMksmMuNKa5mkmCxzZFhknm2VgxBeo/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS84Y2E5/ODE1YWUzNDQ4ZTIw/YTRlNzVhZjhjNmZj/NDFhNC5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5448</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 07<br>تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور اور انسانی وجود کے مراحل ونوعی خصوصیات اور نمونہ معیار<br>(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1)</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 03؍ مئی 2023ء / 12 شوال المکرم 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>  ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:28 پچھلے دروس کا حاصل یعنی مقدمۂ کتاب کے مضامین کا خلاصہ<br>1:47 1۔ ”الرحمن“ ہی وہ شانِ خداوندی ہے جسے فلاسفہ ”وجود اقصیٰ“ کہتے ہیں<br>3:14 2۔ تمام موجودات و مخلوقات رحمان تعالیٰ کی حقیقتِ واحدہ کے احاطہ کے تحت ایک وحدت ہے<br>4:00 3۔ وحدتِ کائنات میں سب مخلوقات میں افضل انسان اور تمام افرادِ انسانی خصوصیات میں متحد و متفق ہو کر ایک وحدت ہیں<br>5:15 4۔ تمام مخلوقات براہِ راست ”الرحمٰن“ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں<br>6:47 5۔ انسانوں کی خصوصیات امام نوعِ انسانی کے تحت ہیں نیز امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت<br>9:17 6۔ ہر نوع کے افراد میں پائی جانے والی خصوصیات اس نوع کے امام کے تحت ہیں اور یہ وحدۃ الوجود ہے۔<br>12:02 7۔ انسانی وجود کے چار مراحل اور ہر مرحلے کی خصوصیات<br>13:19 تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے انسانی وجود کے پانچ مراحل کی وضاحت، پہلا مرحلہ؛ امام الَاعیان<br>16:50 دوسرا مرحلہ؛ عینِ انسانی کا وجود<br>20:12 تیسرا مرحلہ؛ وجودِ روحانی (مرتبۂ عقلیہ)<br>21:36 چوتھا مرحلہ؛ وجودِ مثالی<br>22:53 پانچواں مرحلہ؛ وجودِ ناسوتی اور صورتِ شخصیہ کا فیضان<br>25:00 اس حقیقی پسِ منظر کے پیشِ نظر انسان کی کامیابی کا آئین و قانون کیا ہونا چاہئے؟<br>25:47 انسان کی مجموعی کامیابی پر مشتمل کتاب کے تین مقالات<br>27:09 پہلا مقالہ؛ امامِ نوعِ انسانی کی طرف سے انسانی طبیعتوں میں اترنے والے احکام اور ان کی اساس پر وجود میں آنے والے انسانی اخلاق،ارتفاقات اور نظامات<br>27:49 بدورِ بازغہ کے پہلے مقالے کی مباحث کا اجمالی جائزہ<br>30:02 پہلے مقالے کی آخر بحث؛ مزاجِ انسانی<br>31:43 فصلِ اولّ: نوعِ حیوانی کی خصوصیات اور پھر اس میں نوعِ انسانی کے امتیازات<br>33:04 1۔ نوعِ حیوانی میں دو طرح کے خاص آثار<br>33:45 نوعِ حیوانی کے آثارِ ظاہرہ؛ مخصوص رنگ، شکل، مقدار اور شکل و صورت<br>35:24 نوعِ حیوانی کے آثارِ باطنہ؛ مخصوص درجے کا  ادراک اور ضروریات پوری کرنے کا فہم<br>41:05 2۔ شہد کی مکھی اور چڑیا کی زندگی‘ مخصوص ادراک اور فہم  کی واضح مثال<br>42:58 3۔ فلسفیوں کے غلط  تصور پر عقلی سوال اور ان کی کمزور اور غلط رائے کی تردید<br>44:13 اس سے بڑھ کر کمزور اور غلط رائے اور کیا ہو گی کہ ان نوعی خصوصیات کو مان کر بھی صورۃِ نوعیہ اور امامِ نوع کے تقاضے اور نظام کو نہ مانا جائے۔<br>47:33 یہ دراصل شاہ صاحبؒ نے میبذی کے غلط تصور کا رد کیا ہے<br>48:52 نوعِ انسانی کی حیوانی اَنواع  سے اصولی امتیازات<br>49:53 انسانی خواص؛ اجتماعی مفاد کا جذبہ، گویائی، لکھنے کی صلاحیت اور ظرافت (انسانوں کی امتیازی خصوصیات کے تین اصول)<br>50:34 1 ۔ اجتماعی مفاد کا جذبہ<br>51:10 جانور اور انسان کے انبعاث و ابھار میں بنیادی فرق<br>55:47 2۔ ظرافت(حُبِّ جمال اور مہارت و عمدگی)<br>56:07 جانور اور انسان کی ظرافتِ طبعی میں بڑا فرق<br>57:38 3۔ ایجاد و تقلید، یعنی اخلاق و علوم کی ترقی کے ذریعے اپنی تکمیل کے لئے کام کرنا<br>58:23 حیوانی علوم اور انسانی علوم میں فرق و امتیاز<br>59:52 حجۃ اللہ البالغہ کی عبارت سے ایجاد و تقلید کی تفصیل<br>1:00:56 انسان کے مخصوص آثار کی بنیاد یہی تین اصولوں<br>1:01:56 نوعِ حیوانی و نوعِ انسانی کے افراد کے کمال کا معیار  کیا ہے؟<br>1:03:25 جس فردِ انسانی میں کامل درجہ کی صلابت، اتّصال اور صفائیت ہو گی وہی کامل و اکمل انسان ہو گا<br>1:04:46 انسانوں میں کامل ترین شخص کا معیار<br>1:06:12 انسانی زندگی کے لئے  معیار اور قانون کون بنے گا؟<br>1:06:57 اصل سوال: انسانوں میں اخلاق کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟<br>1:08:46 انسانی زندگی کے مرحلے میں اکمل انسان ہی معیار اور قانون ہے<br>1:09:29 ارتفاقات و اقترابات کے اصولی مراحل میں حضرت ابراہیم ؑمعیار اور قانون ہیں<br>1:12:26 معرفتِ الٰہی اور جزائے اعمال کے مراتب کو سمجھنے کے لئے ایک واضح مثال<br>1:13:38 اچھے ماحول میں پرورش پانے والے نَر چوپائے کی جسمانی خصوصیات<br>1:15:54 ایسے نر جانور کی روحِ حیوانی کے امتیازی خصائص<br>1:18:11 ”يحِبُّ الرّياسة“ کی تشریح<br>1:19:50 بعض افراد اس مثالی  فرد سے کم تر ہوتے ہیں؛ دو بنیادی وجوہات<br>1:22:08 حیوانی صفات پر انسان کو قیاس کر لو! یہی فلسفۂ اخلاق ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 05 | ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں | مفتی عبد الخالق آزاد</title>
      <itunes:episode>5</itunes:episode>
      <podcast:episode>5</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 05 | ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں | مفتی عبد الخالق آزاد</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">e8a2e894-ea42-4652-90ce-88de932bd8c0</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/47ba1aad</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 05</p><p>(فاتحہ: فصل 2)</p><p>ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں اور کائناتی ارتقاء میں تشابک کی نئی تعبیر</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p> بتاریخ: 08؍ مارچ 2023ء / 15 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام؛ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:24 سابقہ درس کا مَاحَصَل<br>1:53  فلاسفہ کا مشہور وہم؛ ہُیُولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابُک کی حقیقت کا تحلیل و تجزیہ<br>3:29 حکماء کے نزدیک صورتِ عامَّہ کا مفہوم<br>5:23 ہیولیٰ کی لغوی و اصطلاحی توضیح<br>7:19 ارسطو کا ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تشابُک کا فرسودہ نظریہ<br>7:56 ارسطو کے مقابلے میں دیمقراطیس کا معتدل نقطۂ نظر<br>8:35 ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کا تصور‘ دینِ اسلام کی تعلیمات سے متصادم<br>9:21 کائنات ایٹموں کا مجموعہ‘ حکماء کا اسے ماننے سے انکار<br>12:02 صورت اور ہیولیٰ کے مزعومہ نظریے پر شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا عقلی سوال<br>13:06 شاہ صاحبؒ کا ہیولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابک کے نظریے کا سرے سے رد<br>18:52 بعض مسلمان حکماء کی ہیولیٰ کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیت سے بے جا استدلال کی کوشش<br>20:55 مثالی قوتیں بھی شکل و صورت رکھتی ہیں<br>23:59 تجلی کے چار درجات اور اونچے درجے کی تجلی؛ تجلیِ جبروتی<br>24:55 شرف و دِناءَت کے اعتبار سے صورتوں کی فطری بناوٹ<br>27:07 شخصِ انسانی پانچ صورتوں کا مجموعہ<br>28:39 جسمِ انسانی میں ہر صورت اپنے آثار کی وجہ سے ممتاز<br>30:40 پہلا مسئلہ؛ صورتوں کے درمیان تشابک کی حقیقت<br>35:31 نظریۂ ارتقاء کے تناظر میں صورتِ معدنیہ کے تشابک کی حقیقت<br>36:43 تفہیماتِ الٰہیہ میں ارتقاءِ کائنات کے چار ادوار پر بحث، پہلا دور؛ معدنیات<br>40:12 دوسرا دور؛ معدنیات کی ترقی یافتہ شکل پر صورتِ نباتیہ کا فیضان<br>43:20 صورتِ نباتی پر رحمٰن کی نظرِ رحمت<br>45:34 تیسرا دور؛ صورتِ نباتیہ کی تَکَفُّفِ حالی سے صورتِ حیوانیہ کا وجود<br>47:01 چوتھا دور؛ صورتِ حیوانیہ پر صورتِ انسانیہ کا فیضانِ رحمٰن<br>50:31 صورتِ انسانیہ کی تین خصوصیات اور آدمیت پر اللہ کی نظرِ رحمت<br>51:10 انسانیت کی خصوصیات؛ حضرت آدمؑ؛ خلاصۂ کائنات، عالَمِ صغیر اور خلافتِ ارضی کے حامل<br>52:09<br>53:29 تفہیماتِ الٰہیہ اور البدور البازغہ میں ارتقاء کائنات کی بحث کے فرق کی بنیادی وجہ<br>54:48 دوسرا تشابک؛ صورتِ نامیہ کے اشتباک کی حقیقت<br>56:25 تیسرا تشابک؛ صورتِ حیوانیہ کی حیاتِ سابغہ<br>56:48 چوتھا تشابک؛ رحمٰن ذات کی طرف سے صورتِ انسانیہ کا فیضان<br> انسان میں تمام صورتوں کے تشابک کی لازمی شرط<br>58:11 دوسرا مسئلہ: ہر اگلی صورت کو زیادہ شرف اور کمال حاصل ہونے کا راز<br>59:02 کمالِ ناجز کی حقیقت و معنویت<br>1:02:01 معنی ناجز کی مثال سے وضاحت<br>1:03:31 معنی ناجز کو سمجھنے کے لیے گردوپیش کے حقائق کا جائزہ<br>1:04:55 دورِ جدید کی عام فہم مثال سے حضرت اقدس مدظلہ العالی کی وضاحت<br>1:07:32 ہرصورتِ میں تکاثف و اتصال، استواء و صقالہ کے درجات کے تناظر میں معنی ناجز کی توضیح<br>1:11:43 عالمِ اِبداع و خلق کے دائرے میں معنی ناجز    کا راز<br>1:12:49 پہلا درجہ: صورتِ معدنیہ میں معنی ناجز کے اثرات و نتائج<br>1:14:48 دوسرا درجہ: صورت نامیہ میں معنی ناجز  کی مزید خصوصیات<br>1:16:49 تیسرا درجہ: حیوانیت کے ظاہر و باطن میں معنی ناجز کے خواص وتاثیرات<br>1:17:28 چوتھا درجہ: انسان میں معنی ناجز کی دو بڑی خصوصیات<br>1:18:13 پانچواں درجہ: ہر فردِ انسانی میں منفرد معنیٰ ناجز  پنہاں<br>1:19:09 ہر وجود میں آنے والی صورت کے مَناط اورمِحوَر کی تشریح<br>1:20:39 انسان میں صورتِ نامیہ کے عُقدَہ کا مناط' صورتِ معدنیہ ہے<br>1:25:36 صورتِ حیوانیہ کے عقدہ کا مناط<br>1:27:04 صورتِ انسانیہ کی گِرہ کامناط<br>1:28:07 صورتِ شخصیہ کا یونیک مناط<br>1:29:11 سَیر الی اللہ اور ہر انسان کا مُرَبِّی اسم <br>1:30:40 صورتِ انسانیہ کا شرف و کمال<br>1:31:36 حکماء و فلاسفہ کا نواں وہمِ ظلمانی؛ انواع و اجناس کا خود ساختہ نظریہ<br>1:33:51 فلاسفہ کا ارتقاء کا نقطۂ نظر قطعاً غلط<br>1:38:42 اہم بات؛ سیر  الی اللہ یا سلوک کا اعلیٰ معیار<br>✔️ حاشیے میں تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے سلوک  کی وضاحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 05</p><p>(فاتحہ: فصل 2)</p><p>ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں اور کائناتی ارتقاء میں تشابک کی نئی تعبیر</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p> بتاریخ: 08؍ مارچ 2023ء / 15 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام؛ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:24 سابقہ درس کا مَاحَصَل<br>1:53  فلاسفہ کا مشہور وہم؛ ہُیُولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابُک کی حقیقت کا تحلیل و تجزیہ<br>3:29 حکماء کے نزدیک صورتِ عامَّہ کا مفہوم<br>5:23 ہیولیٰ کی لغوی و اصطلاحی توضیح<br>7:19 ارسطو کا ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تشابُک کا فرسودہ نظریہ<br>7:56 ارسطو کے مقابلے میں دیمقراطیس کا معتدل نقطۂ نظر<br>8:35 ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کا تصور‘ دینِ اسلام کی تعلیمات سے متصادم<br>9:21 کائنات ایٹموں کا مجموعہ‘ حکماء کا اسے ماننے سے انکار<br>12:02 صورت اور ہیولیٰ کے مزعومہ نظریے پر شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا عقلی سوال<br>13:06 شاہ صاحبؒ کا ہیولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابک کے نظریے کا سرے سے رد<br>18:52 بعض مسلمان حکماء کی ہیولیٰ کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیت سے بے جا استدلال کی کوشش<br>20:55 مثالی قوتیں بھی شکل و صورت رکھتی ہیں<br>23:59 تجلی کے چار درجات اور اونچے درجے کی تجلی؛ تجلیِ جبروتی<br>24:55 شرف و دِناءَت کے اعتبار سے صورتوں کی فطری بناوٹ<br>27:07 شخصِ انسانی پانچ صورتوں کا مجموعہ<br>28:39 جسمِ انسانی میں ہر صورت اپنے آثار کی وجہ سے ممتاز<br>30:40 پہلا مسئلہ؛ صورتوں کے درمیان تشابک کی حقیقت<br>35:31 نظریۂ ارتقاء کے تناظر میں صورتِ معدنیہ کے تشابک کی حقیقت<br>36:43 تفہیماتِ الٰہیہ میں ارتقاءِ کائنات کے چار ادوار پر بحث، پہلا دور؛ معدنیات<br>40:12 دوسرا دور؛ معدنیات کی ترقی یافتہ شکل پر صورتِ نباتیہ کا فیضان<br>43:20 صورتِ نباتی پر رحمٰن کی نظرِ رحمت<br>45:34 تیسرا دور؛ صورتِ نباتیہ کی تَکَفُّفِ حالی سے صورتِ حیوانیہ کا وجود<br>47:01 چوتھا دور؛ صورتِ حیوانیہ پر صورتِ انسانیہ کا فیضانِ رحمٰن<br>50:31 صورتِ انسانیہ کی تین خصوصیات اور آدمیت پر اللہ کی نظرِ رحمت<br>51:10 انسانیت کی خصوصیات؛ حضرت آدمؑ؛ خلاصۂ کائنات، عالَمِ صغیر اور خلافتِ ارضی کے حامل<br>52:09<br>53:29 تفہیماتِ الٰہیہ اور البدور البازغہ میں ارتقاء کائنات کی بحث کے فرق کی بنیادی وجہ<br>54:48 دوسرا تشابک؛ صورتِ نامیہ کے اشتباک کی حقیقت<br>56:25 تیسرا تشابک؛ صورتِ حیوانیہ کی حیاتِ سابغہ<br>56:48 چوتھا تشابک؛ رحمٰن ذات کی طرف سے صورتِ انسانیہ کا فیضان<br> انسان میں تمام صورتوں کے تشابک کی لازمی شرط<br>58:11 دوسرا مسئلہ: ہر اگلی صورت کو زیادہ شرف اور کمال حاصل ہونے کا راز<br>59:02 کمالِ ناجز کی حقیقت و معنویت<br>1:02:01 معنی ناجز کی مثال سے وضاحت<br>1:03:31 معنی ناجز کو سمجھنے کے لیے گردوپیش کے حقائق کا جائزہ<br>1:04:55 دورِ جدید کی عام فہم مثال سے حضرت اقدس مدظلہ العالی کی وضاحت<br>1:07:32 ہرصورتِ میں تکاثف و اتصال، استواء و صقالہ کے درجات کے تناظر میں معنی ناجز کی توضیح<br>1:11:43 عالمِ اِبداع و خلق کے دائرے میں معنی ناجز    کا راز<br>1:12:49 پہلا درجہ: صورتِ معدنیہ میں معنی ناجز کے اثرات و نتائج<br>1:14:48 دوسرا درجہ: صورت نامیہ میں معنی ناجز  کی مزید خصوصیات<br>1:16:49 تیسرا درجہ: حیوانیت کے ظاہر و باطن میں معنی ناجز کے خواص وتاثیرات<br>1:17:28 چوتھا درجہ: انسان میں معنی ناجز کی دو بڑی خصوصیات<br>1:18:13 پانچواں درجہ: ہر فردِ انسانی میں منفرد معنیٰ ناجز  پنہاں<br>1:19:09 ہر وجود میں آنے والی صورت کے مَناط اورمِحوَر کی تشریح<br>1:20:39 انسان میں صورتِ نامیہ کے عُقدَہ کا مناط' صورتِ معدنیہ ہے<br>1:25:36 صورتِ حیوانیہ کے عقدہ کا مناط<br>1:27:04 صورتِ انسانیہ کی گِرہ کامناط<br>1:28:07 صورتِ شخصیہ کا یونیک مناط<br>1:29:11 سَیر الی اللہ اور ہر انسان کا مُرَبِّی اسم <br>1:30:40 صورتِ انسانیہ کا شرف و کمال<br>1:31:36 حکماء و فلاسفہ کا نواں وہمِ ظلمانی؛ انواع و اجناس کا خود ساختہ نظریہ<br>1:33:51 فلاسفہ کا ارتقاء کا نقطۂ نظر قطعاً غلط<br>1:38:42 اہم بات؛ سیر  الی اللہ یا سلوک کا اعلیٰ معیار<br>✔️ حاشیے میں تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے سلوک  کی وضاحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 25 Jan 2026 16:32:10 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/47ba1aad/d80606e9.mp3" length="100009371" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/VZJ9qom57DLe9WEFprQEI0EYYZR4uAenewOSInCR_ww/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS8zOTU0/YjM0MjZlYWZiMzc4/MDk4N2ZiYWY3NGMx/MmJlZi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>6228</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 05</p><p>(فاتحہ: فصل 2)</p><p>ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں اور کائناتی ارتقاء میں تشابک کی نئی تعبیر</p><p> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p> بتاریخ: 08؍ مارچ 2023ء / 15 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام؛ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:24 سابقہ درس کا مَاحَصَل<br>1:53  فلاسفہ کا مشہور وہم؛ ہُیُولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابُک کی حقیقت کا تحلیل و تجزیہ<br>3:29 حکماء کے نزدیک صورتِ عامَّہ کا مفہوم<br>5:23 ہیولیٰ کی لغوی و اصطلاحی توضیح<br>7:19 ارسطو کا ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تشابُک کا فرسودہ نظریہ<br>7:56 ارسطو کے مقابلے میں دیمقراطیس کا معتدل نقطۂ نظر<br>8:35 ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کا تصور‘ دینِ اسلام کی تعلیمات سے متصادم<br>9:21 کائنات ایٹموں کا مجموعہ‘ حکماء کا اسے ماننے سے انکار<br>12:02 صورت اور ہیولیٰ کے مزعومہ نظریے پر شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا عقلی سوال<br>13:06 شاہ صاحبؒ کا ہیولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابک کے نظریے کا سرے سے رد<br>18:52 بعض مسلمان حکماء کی ہیولیٰ کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیت سے بے جا استدلال کی کوشش<br>20:55 مثالی قوتیں بھی شکل و صورت رکھتی ہیں<br>23:59 تجلی کے چار درجات اور اونچے درجے کی تجلی؛ تجلیِ جبروتی<br>24:55 شرف و دِناءَت کے اعتبار سے صورتوں کی فطری بناوٹ<br>27:07 شخصِ انسانی پانچ صورتوں کا مجموعہ<br>28:39 جسمِ انسانی میں ہر صورت اپنے آثار کی وجہ سے ممتاز<br>30:40 پہلا مسئلہ؛ صورتوں کے درمیان تشابک کی حقیقت<br>35:31 نظریۂ ارتقاء کے تناظر میں صورتِ معدنیہ کے تشابک کی حقیقت<br>36:43 تفہیماتِ الٰہیہ میں ارتقاءِ کائنات کے چار ادوار پر بحث، پہلا دور؛ معدنیات<br>40:12 دوسرا دور؛ معدنیات کی ترقی یافتہ شکل پر صورتِ نباتیہ کا فیضان<br>43:20 صورتِ نباتی پر رحمٰن کی نظرِ رحمت<br>45:34 تیسرا دور؛ صورتِ نباتیہ کی تَکَفُّفِ حالی سے صورتِ حیوانیہ کا وجود<br>47:01 چوتھا دور؛ صورتِ حیوانیہ پر صورتِ انسانیہ کا فیضانِ رحمٰن<br>50:31 صورتِ انسانیہ کی تین خصوصیات اور آدمیت پر اللہ کی نظرِ رحمت<br>51:10 انسانیت کی خصوصیات؛ حضرت آدمؑ؛ خلاصۂ کائنات، عالَمِ صغیر اور خلافتِ ارضی کے حامل<br>52:09<br>53:29 تفہیماتِ الٰہیہ اور البدور البازغہ میں ارتقاء کائنات کی بحث کے فرق کی بنیادی وجہ<br>54:48 دوسرا تشابک؛ صورتِ نامیہ کے اشتباک کی حقیقت<br>56:25 تیسرا تشابک؛ صورتِ حیوانیہ کی حیاتِ سابغہ<br>56:48 چوتھا تشابک؛ رحمٰن ذات کی طرف سے صورتِ انسانیہ کا فیضان<br> انسان میں تمام صورتوں کے تشابک کی لازمی شرط<br>58:11 دوسرا مسئلہ: ہر اگلی صورت کو زیادہ شرف اور کمال حاصل ہونے کا راز<br>59:02 کمالِ ناجز کی حقیقت و معنویت<br>1:02:01 معنی ناجز کی مثال سے وضاحت<br>1:03:31 معنی ناجز کو سمجھنے کے لیے گردوپیش کے حقائق کا جائزہ<br>1:04:55 دورِ جدید کی عام فہم مثال سے حضرت اقدس مدظلہ العالی کی وضاحت<br>1:07:32 ہرصورتِ میں تکاثف و اتصال، استواء و صقالہ کے درجات کے تناظر میں معنی ناجز کی توضیح<br>1:11:43 عالمِ اِبداع و خلق کے دائرے میں معنی ناجز    کا راز<br>1:12:49 پہلا درجہ: صورتِ معدنیہ میں معنی ناجز کے اثرات و نتائج<br>1:14:48 دوسرا درجہ: صورت نامیہ میں معنی ناجز  کی مزید خصوصیات<br>1:16:49 تیسرا درجہ: حیوانیت کے ظاہر و باطن میں معنی ناجز کے خواص وتاثیرات<br>1:17:28 چوتھا درجہ: انسان میں معنی ناجز کی دو بڑی خصوصیات<br>1:18:13 پانچواں درجہ: ہر فردِ انسانی میں منفرد معنیٰ ناجز  پنہاں<br>1:19:09 ہر وجود میں آنے والی صورت کے مَناط اورمِحوَر کی تشریح<br>1:20:39 انسان میں صورتِ نامیہ کے عُقدَہ کا مناط' صورتِ معدنیہ ہے<br>1:25:36 صورتِ حیوانیہ کے عقدہ کا مناط<br>1:27:04 صورتِ انسانیہ کی گِرہ کامناط<br>1:28:07 صورتِ شخصیہ کا یونیک مناط<br>1:29:11 سَیر الی اللہ اور ہر انسان کا مُرَبِّی اسم <br>1:30:40 صورتِ انسانیہ کا شرف و کمال<br>1:31:36 حکماء و فلاسفہ کا نواں وہمِ ظلمانی؛ انواع و اجناس کا خود ساختہ نظریہ<br>1:33:51 فلاسفہ کا ارتقاء کا نقطۂ نظر قطعاً غلط<br>1:38:42 اہم بات؛ سیر  الی اللہ یا سلوک کا اعلیٰ معیار<br>✔️ حاشیے میں تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے سلوک  کی وضاحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 06 | طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت  | مفتی عبد الخالق آزاد</title>
      <itunes:episode>6</itunes:episode>
      <podcast:episode>6</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 06 | طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت  | مفتی عبد الخالق آزاد</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">65eb1b97-401b-41cb-8f66-f6a2f254f66f</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/c664829e</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 06<br>طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور<br>(فاتحہ: فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ<br>3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان<br>5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر<br>6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات<br>9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت<br>10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت<br>11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!<br>12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ<br>13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید<br>16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ  کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی<br>17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم<br>19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا<br>20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں<br>22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی<br>25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی<br>28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال<br>29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ<br>30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس<br>31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود<br>33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں<br>35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح<br>37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ<br>37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار<br>38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی<br>40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے<br>42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ<br>45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!<br>46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی<br>47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ<br>48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول<br>51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟<br>53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال<br>55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!<br>57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل<br>59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘  نظرِ جلّی میں<br>1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت<br>1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں<br>1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت<br>1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت<br>1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت<br>1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف<br>1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں<br>1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی<br>1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن<br>1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت<br>1:18:25 ملّتوں کے تحت  اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت<br>1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل<br>1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“<br>1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر<br>1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے<br>1:24:27 اَشخاص  میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ  انسانی کے مُعِدَّات کا فرق<br>1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات  کے زیرِ اثر وقوع<br>1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا<br>1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران<br>1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت<br>1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ<br>1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان<br>1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل<br>1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش<br>1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی<br>1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی<br>1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو<p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 06<br>طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور<br>(فاتحہ: فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ<br>3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان<br>5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر<br>6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات<br>9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت<br>10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت<br>11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!<br>12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ<br>13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید<br>16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ  کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی<br>17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم<br>19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا<br>20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں<br>22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی<br>25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی<br>28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال<br>29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ<br>30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس<br>31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود<br>33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں<br>35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح<br>37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ<br>37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار<br>38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی<br>40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے<br>42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ<br>45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!<br>46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی<br>47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ<br>48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول<br>51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟<br>53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال<br>55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!<br>57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل<br>59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘  نظرِ جلّی میں<br>1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت<br>1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں<br>1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت<br>1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت<br>1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت<br>1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف<br>1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں<br>1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی<br>1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن<br>1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت<br>1:18:25 ملّتوں کے تحت  اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت<br>1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل<br>1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“<br>1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر<br>1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے<br>1:24:27 اَشخاص  میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ  انسانی کے مُعِدَّات کا فرق<br>1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات  کے زیرِ اثر وقوع<br>1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا<br>1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران<br>1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت<br>1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ<br>1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان<br>1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل<br>1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش<br>1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی<br>1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی<br>1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو<p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sun, 25 Jan 2026 16:27:04 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/c664829e/b8761542.mp3" length="97583787" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/v8blxMg-rfVGLp373w_p2SdCJmTh5pl2Psk5cpjzFqw/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83NjI4/YmM1YTg3MmE3OTk1/MzgzNWE1YzY5NGJj/NjBkNi5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>6079</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 06<br>طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور<br>(فاتحہ: فصل 3)<br> مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة<br> بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور<br> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ<br>3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان<br>5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر<br>6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات<br>9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت<br>10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت<br>11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!<br>12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ<br>13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید<br>16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ  کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی<br>17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم<br>19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا<br>20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں<br>22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی<br>25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی<br>28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال<br>29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ<br>30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس<br>31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود<br>33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں<br>35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح<br>37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ<br>37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار<br>38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی<br>40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے<br>42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ<br>45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!<br>46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی<br>47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ<br>48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول<br>51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟<br>53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال<br>55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!<br>57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل<br>59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘  نظرِ جلّی میں<br>1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت<br>1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں<br>1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت<br>1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت<br>1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت<br>1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف<br>1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں<br>1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی<br>1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن<br>1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت<br>1:18:25 ملّتوں کے تحت  اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت<br>1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل<br>1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“<br>1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر<br>1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے<br>1:24:27 اَشخاص  میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ  انسانی کے مُعِدَّات کا فرق<br>1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات  کے زیرِ اثر وقوع<br>1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا<br>1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران<br>1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت<br>1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ<br>1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان<br>1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل<br>1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش<br>1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی<br>1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی<br>1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو<p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 04 | تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق | مفتی عبد الخالق آزاد</title>
      <itunes:episode>4</itunes:episode>
      <podcast:episode>4</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 04 | تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق | مفتی عبد الخالق آزاد</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">b61d989d-a936-4695-8bdd-e3742ec10c93</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/12c24a2d</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و بُرھَانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت<p> درس: 04<br>(فاتحہ؛ فصل 2)<br> تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق؛ فلاسفہ کے مغالطے اور ولی اللہی نقد<br> مُدرِّس:<br> ولی اللہی علوم کے محققِ عصر حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مُؤَلِّف "اَلنُّجُومُ السَّاطِعَة" شرح اَلبُدُورُ البَازِغَة</p><p> بتاریخ: 01؍ مارچ 2023ء / 08 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ مقدمہ کی پہلی فصل کا خلاصہ<br>✔️ ”العرش“ و ”الماء“ (عرش اور پانی) کی تخلیق اور ان کے ملاپ سے کائنات کا وجود<br>✔️ دوسری فصل میں پانچ اُمور زیرِ بحث<br>✔️ پہلی بحث؛ نفس (روح) اور صورت کے باہمی ربط و تعلق میں فلاسفہ کی غلط فہمیاں<br>✔️مسلمہ قاعدہ؛ موجودات میں طبائع جوہریہ و ارضیہ کا ملاپ<br>✔️ ہر تخلیق کے مخصوص خواص، اس سے جدا نہیں ہو سکتے!<br>✔️ طبائعِ عرضیہ کا وجود‘طبائع جوہریہ کے بغیر ممکن نہیں!<br>✔️ موجودات کے مشترکہ آثار و خواص<br>✔️ اس اصول کی اساس پر صورتِ جسمیہ کی تخریج<br>✔️ صورتِ جسمیہ کے چار ضروری اُمور؛ <br>✔️ ۱۔جسم کی کوئی شکل ہوگی۔<br>✔️ شکل کی تعریف اور مثال سے وضاحت<br>✔️ ۲۔ ہر جسم کسی نہ کسی حَیِّز (مکان) میں ہوگا<br>✔️ ۳۔ زمان کے بغیر کوئی جسم اپنا وجود نہیں رکھتا!<br>✔️ ۴۔ جسم  کی کمیت (مقدار)<br>✔️ موجودات صورتِ جسمیہ رکھتی ہیں<br>✔️ صورتِ جسمیہ کی اگلی شکل”صورتِ عُنصُریہ“<br>✔️ عُنصُر کی تعریف  <br>✔️ ہرعنصر جداگانہ خصوصیت کا حامل، مثالوں سے وضاحت<br>✔️ فلکیاتی عناصر کی خصوصیات<br>✔️ عناصر ارضیہ و فَلَکیہ کے مَوَالِید پر اثرات اور صورتِ مُتَوَلِّدَہ کا وجود <br>✔️ صورتِ نامِیہ کا ارتقاء<br>✔️ صورتِ حیوانیہ اور اس کی خصوصیات<br>✔️ صورتِ انسانیہ کے تحت صورتِ شخصیہ<br>✔️ نُفُوس و صُوَر کا  باہمی تَشَابُک<br>✔️ فلاسفہ کا مغالطہ؛ نفوس‘ صور کا حصہ نہیں۔ شاہ صاحبؒ کا اس پر رد<br>✔️ مولانا سندھیؒ کی شرح و توضیح<br>✔️ شاہ صاحبؒ کی حکماء کے مغالطے پر کڑی تنقید<br>✔️ فلاسفہ کی کم فہمی پر دلیل<br>✔️ فلاسفہ کے مغالطے کی وضاحت<br>✔️ صورتوں سے متعلق "الخیر الکثیر" میں بنیادی اُصول اور ضابطہ<br>✔️ نفوس اور صورتوں کے درمیان افتراق کا غلط نظریہ<br>✔️ اگلے درس میں ہُیُولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تَشَابُک کے بارے میں گفتگو</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و بُرھَانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت<p> درس: 04<br>(فاتحہ؛ فصل 2)<br> تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق؛ فلاسفہ کے مغالطے اور ولی اللہی نقد<br> مُدرِّس:<br> ولی اللہی علوم کے محققِ عصر حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مُؤَلِّف "اَلنُّجُومُ السَّاطِعَة" شرح اَلبُدُورُ البَازِغَة</p><p> بتاریخ: 01؍ مارچ 2023ء / 08 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ مقدمہ کی پہلی فصل کا خلاصہ<br>✔️ ”العرش“ و ”الماء“ (عرش اور پانی) کی تخلیق اور ان کے ملاپ سے کائنات کا وجود<br>✔️ دوسری فصل میں پانچ اُمور زیرِ بحث<br>✔️ پہلی بحث؛ نفس (روح) اور صورت کے باہمی ربط و تعلق میں فلاسفہ کی غلط فہمیاں<br>✔️مسلمہ قاعدہ؛ موجودات میں طبائع جوہریہ و ارضیہ کا ملاپ<br>✔️ ہر تخلیق کے مخصوص خواص، اس سے جدا نہیں ہو سکتے!<br>✔️ طبائعِ عرضیہ کا وجود‘طبائع جوہریہ کے بغیر ممکن نہیں!<br>✔️ موجودات کے مشترکہ آثار و خواص<br>✔️ اس اصول کی اساس پر صورتِ جسمیہ کی تخریج<br>✔️ صورتِ جسمیہ کے چار ضروری اُمور؛ <br>✔️ ۱۔جسم کی کوئی شکل ہوگی۔<br>✔️ شکل کی تعریف اور مثال سے وضاحت<br>✔️ ۲۔ ہر جسم کسی نہ کسی حَیِّز (مکان) میں ہوگا<br>✔️ ۳۔ زمان کے بغیر کوئی جسم اپنا وجود نہیں رکھتا!<br>✔️ ۴۔ جسم  کی کمیت (مقدار)<br>✔️ موجودات صورتِ جسمیہ رکھتی ہیں<br>✔️ صورتِ جسمیہ کی اگلی شکل”صورتِ عُنصُریہ“<br>✔️ عُنصُر کی تعریف  <br>✔️ ہرعنصر جداگانہ خصوصیت کا حامل، مثالوں سے وضاحت<br>✔️ فلکیاتی عناصر کی خصوصیات<br>✔️ عناصر ارضیہ و فَلَکیہ کے مَوَالِید پر اثرات اور صورتِ مُتَوَلِّدَہ کا وجود <br>✔️ صورتِ نامِیہ کا ارتقاء<br>✔️ صورتِ حیوانیہ اور اس کی خصوصیات<br>✔️ صورتِ انسانیہ کے تحت صورتِ شخصیہ<br>✔️ نُفُوس و صُوَر کا  باہمی تَشَابُک<br>✔️ فلاسفہ کا مغالطہ؛ نفوس‘ صور کا حصہ نہیں۔ شاہ صاحبؒ کا اس پر رد<br>✔️ مولانا سندھیؒ کی شرح و توضیح<br>✔️ شاہ صاحبؒ کی حکماء کے مغالطے پر کڑی تنقید<br>✔️ فلاسفہ کی کم فہمی پر دلیل<br>✔️ فلاسفہ کے مغالطے کی وضاحت<br>✔️ صورتوں سے متعلق "الخیر الکثیر" میں بنیادی اُصول اور ضابطہ<br>✔️ نفوس اور صورتوں کے درمیان افتراق کا غلط نظریہ<br>✔️ اگلے درس میں ہُیُولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تَشَابُک کے بارے میں گفتگو</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 16:25:23 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/12c24a2d/32ec4f6d.mp3" length="69990999" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/kxKhpPbwX0QOoeQ7oQqNbgra6Xe1RrBePZS9wPm3mGQ/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9mNzIx/NzliYzA0Njg2YTJl/Y2UzNDQ4ZDlkZjZh/YWU5ZS5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>4358</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و بُرھَانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت<p> درس: 04<br>(فاتحہ؛ فصل 2)<br> تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق؛ فلاسفہ کے مغالطے اور ولی اللہی نقد<br> مُدرِّس:<br> ولی اللہی علوم کے محققِ عصر حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مُؤَلِّف "اَلنُّجُومُ السَّاطِعَة" شرح اَلبُدُورُ البَازِغَة</p><p> بتاریخ: 01؍ مارچ 2023ء / 08 شعبان المُعَظَّم  1444ھ<br> بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p> ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>✔️ مقدمہ کی پہلی فصل کا خلاصہ<br>✔️ ”العرش“ و ”الماء“ (عرش اور پانی) کی تخلیق اور ان کے ملاپ سے کائنات کا وجود<br>✔️ دوسری فصل میں پانچ اُمور زیرِ بحث<br>✔️ پہلی بحث؛ نفس (روح) اور صورت کے باہمی ربط و تعلق میں فلاسفہ کی غلط فہمیاں<br>✔️مسلمہ قاعدہ؛ موجودات میں طبائع جوہریہ و ارضیہ کا ملاپ<br>✔️ ہر تخلیق کے مخصوص خواص، اس سے جدا نہیں ہو سکتے!<br>✔️ طبائعِ عرضیہ کا وجود‘طبائع جوہریہ کے بغیر ممکن نہیں!<br>✔️ موجودات کے مشترکہ آثار و خواص<br>✔️ اس اصول کی اساس پر صورتِ جسمیہ کی تخریج<br>✔️ صورتِ جسمیہ کے چار ضروری اُمور؛ <br>✔️ ۱۔جسم کی کوئی شکل ہوگی۔<br>✔️ شکل کی تعریف اور مثال سے وضاحت<br>✔️ ۲۔ ہر جسم کسی نہ کسی حَیِّز (مکان) میں ہوگا<br>✔️ ۳۔ زمان کے بغیر کوئی جسم اپنا وجود نہیں رکھتا!<br>✔️ ۴۔ جسم  کی کمیت (مقدار)<br>✔️ موجودات صورتِ جسمیہ رکھتی ہیں<br>✔️ صورتِ جسمیہ کی اگلی شکل”صورتِ عُنصُریہ“<br>✔️ عُنصُر کی تعریف  <br>✔️ ہرعنصر جداگانہ خصوصیت کا حامل، مثالوں سے وضاحت<br>✔️ فلکیاتی عناصر کی خصوصیات<br>✔️ عناصر ارضیہ و فَلَکیہ کے مَوَالِید پر اثرات اور صورتِ مُتَوَلِّدَہ کا وجود <br>✔️ صورتِ نامِیہ کا ارتقاء<br>✔️ صورتِ حیوانیہ اور اس کی خصوصیات<br>✔️ صورتِ انسانیہ کے تحت صورتِ شخصیہ<br>✔️ نُفُوس و صُوَر کا  باہمی تَشَابُک<br>✔️ فلاسفہ کا مغالطہ؛ نفوس‘ صور کا حصہ نہیں۔ شاہ صاحبؒ کا اس پر رد<br>✔️ مولانا سندھیؒ کی شرح و توضیح<br>✔️ شاہ صاحبؒ کی حکماء کے مغالطے پر کڑی تنقید<br>✔️ فلاسفہ کی کم فہمی پر دلیل<br>✔️ فلاسفہ کے مغالطے کی وضاحت<br>✔️ صورتوں سے متعلق "الخیر الکثیر" میں بنیادی اُصول اور ضابطہ<br>✔️ نفوس اور صورتوں کے درمیان افتراق کا غلط نظریہ<br>✔️ اگلے درس میں ہُیُولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تَشَابُک کے بارے میں گفتگو</p><p><br>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔</p><p>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 03 | فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ | مفتی عبد الخالق آزاد</title>
      <itunes:episode>3</itunes:episode>
      <podcast:episode>3</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 03 | فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ | مفتی عبد الخالق آزاد</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">6d8ae43c-d322-4aaf-bebb-f611da035102</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/8953569f</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 03<br>(فاتحہ؛فصل 1)<br>فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ </p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ : 01؍ فروری 2023ء / 09 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:18 سابقہ درس کا خلاصہ<br>1:29 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے والوں کے مختلف طبقات اور نتائجِ فکر<br>3:32 خالق و مخلوق کے تعلق پر غور وفکر کرنے والے حضراتِ انبیاءعلیھم السلام<br>4:30 انبیاءؑ کے بعد، مُحَدَّثین کا اس غور و فکر  میں درجۂ کمال<br>5:08 مُحَدَّث؛ نبی کی بات کو عقل و برہان اور شعور و فہم کے ساتھ سمجھنے والا<br>6:30 مُحَدَّثین کے بعد، اس غور وفکر صوفیائے کِرام کا درجہ<br>7:31 فلسفۂ مَشائیہ و اِشراقیہ کے بانیان؛ ارسطو و افلاطون<br>8:46 حقائقِ کائنات کے مادی فلسفے سے اختلاف اور اِشراق  کی بنیاد<br>10:15 فلسفۂ مشائیہ کے عرب فقہاء ؛مالکیہ و شوافع پر گہرے اثرات<br>11:49 ارسطو کی تعلیمات کے زیرِ اثر مسلمان فلاسفہ ؛ بو علی سیناؒ و ابن رشد ؒ<br>12:38 فلسفۂ اشراق کے زیرِ اثر مسلمان صوفیائے کِرامؒ<br>13:40 شیخ شہاب الدین مقتولؒ کا افلاطون کے نظریۂ اِشراق کا احیاء<br>14:50 مشائیہ کے زیرِ اثر صوفیاء کے ایک سلسلے کا المیہ<br>16:22 مشائیہ کے ناقص اور ادھورے تصورات آج بھی درس نظامی کے نصاب کا حصہ<br>17:33 مشائیین کا واجب الوجود یا وجود اقصی کی حقیقت کو مجبوراً تسلیم کرنے کا فلسفہ<br>20:15 وجودِ اقصیٰ کے بارے میں مشائیین کی دو بڑی غلط فہمیاں اور شاہ صاحبؒ کا ردّ<br>24:53 حقیقتِ واجبہ یا حقیقتِ قُدسیہ سے متعلق فلاسفہ کے تیسرے وہم کا عقلی رد<br>30:31 صادرِ اول اور حقیقتِ قصویٰ میں عنوان اور مفہوم کی نسبت‘ مثال سے وضاحت<br>32:35 حکمتِ ربّانیہ کی اصطلاح میں صادرِ اول  کے مختلف نام <br>34:19 صادرِ اول‘ دراصل وجودِ اقصیٰ کی تجلی ہے<br>36:24  ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاتِ مطلقہ میں آخری تجلئ بحت‘ کل موجودات کی مبدأِ اول<br>36:52 ’’موجود الکل‘‘ شاہ صاحبؒ کی ایک اصطلاح <br>37:30 الرحمٰن؛ عرش سے لے کر فرش تمام مخلوقات کا مبدأِاول نیز اسمِ ذات کا عنوان<br>40:15 مشائیہ کا چوتھا وہمِ ظُلمانی؛ حقائقِ کائنات ایک وحدت کے تحت مجتمع نہیں ہیں<br>45:21 کائنات ایک کلمے سے پیدا ہوئی ہے تو موجود الکل میں وحدت کیوں نہیں؟چوتھے وہم ظلمانی کا عقلی رد <br>46:29 وحدتِ کی حقیقت اور درجات کے تناظر میں شخصِ اکبر کی وحدت کی توضیح  <br>47:38 شخصِ اکبر کے عالم گیر تدبیرِ وُحدانی کے تحت کام کرنے پر دلائل<br>51:06 فلاسفہ و صوفیاء کے علومِ باطنہ میں عالمگیر تدبیر ِ وحدانی کا اعتراف موجود ہے <br>52:30 فلاسفہ  مشائیہ کے ہاں تدبیر وحدانی کے اعتراف کا ذکر<br>56:16 فلک الافلاک کے اوپر شخصِ اکبر میں تدبیرِ وحدانی کیوں کام نہیں کر رہی؟ فلاسفہ کا رد<br>57:32 تدبیرِ وُحدانی اصحابِ شرائع کے ہاں تسلیم شدہ<br>58:34 تدبیرِ وحدانی کا کنٹرول رحمان ذات کے قبضے میں ہے<br>59:53 دنیا میں صفتِ رحمٰن اور آخرت میں صفتِ رحیم کا اظہار <br>1:01:58 صفتِ رحمان کے اوصاف کی عمومیت<br>1:04:49 اسمِ رحمان کی حقیقت؛ کائنات کی ہر شے سے براہ راست تعلق<br>1:07:07 ’’الرحمٰن‘‘ ہر انسان کے تقرّر اور زندگی کے تمام مراحل کا واحد ذریعہ<br>1:11:35 الرحمٰن اسمِ بحت میں کوئی تکثر نہیں! فلسفیوں کے وہمی سوال کا جواب<br>1:13:26 کسی نوع یا شخص کے مُخَصَّصَات کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد اِعطاءِ وجود<br>1:16:32 مُخَصَّصَات کہاں سے آتے ہیں؟ اس عقلی سوال کے جواب میں شخصِ اکبر میں تین طرح کی قوّتیں اور ان کے حاملات کی تفصیلات<br>1:17:37 شخصِ اکبر میں پہلی قوت طبیعت الکل ہے<br>1:19:58 دوسری قوت؛ قُوَائے اِدراکیہ<br>1:21:11 تیسری قوت؛ اِلٰہی قوتیں<br>1:22:23 ان قوتوں کے جِبِلی و فطری ملاپ کے شخصِ اکبر پر اثرات ونتائج<br>1:26:13 صوفیاء و فلاسفہ کے ہاں حقیقتِ مجرّدہ کی مختلف تعبیرات<br>1:27:01 شاہ صاحب ؒ کی اصطلاح میں حقیقتِ مجردہ کو’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔<br>1:27:55 ہر نوع کا امام  ’’عین‘‘ کہلاتا ہے نیز ہر نوع کے مُخصّصات کا تعیّن<br>1:29:43 صوفیاء ’’باطن الوجود“   کو حقیقتِ مجردہ سمجھ کر، رک گئے<br>1:30:37 صوفیاء نے وجودِ اقصیٰ تک جانے کا آسان راستہ اختیار نہیں کیا<br>1:31:32 شاہ صاحبؒ کو وجودِ اقصیٰ تک جانے والی شاہراہ پر چلنے کی توفیق ہوئی<br>1:32:06 سلوک الی اللہ کے راستے ؛ نیز کاملین کا درجہ' سب سے اعلیٰ <br>1:33:21 صوفیاء کی حالت ؛ اسمائے الٰہیہ کے باطن میں فنا اور ظاہر سے بے خبر<br>1:34:16 مشائیہ کے فتنے کے دور میں اشراقی فلاسفہ کے حقیقی علوم کا خاتمہ <br>1:35:48 فاتحہ کی مباحث‘ مشائیین اور اشراقیین کے تفصیلی نقطۂ نظر کی متحمل نہیں!<br>1:37:17 موجودات میں علت و معلول کا نظام<br>1:38:34 علت و معلول کے نظام کی علتِ اولیٰ ؛ ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی<br>1:40:57 ہر وقوع پذیر ہونے والے حادثے کو صورت' عطاء کرنے والی ’’اَلرَّحمٰن‘‘ ذات<br>1:42:23 ذاتِ باری تعالیٰ کا ہر صورت پر احاطہ اور مظہر کمال<br>1:42:56 ہر صورتِ خاصہ کے معرضِ وجود سے پہلے مطلوبہ استعداد کی ضرورت<br>1:44:39 روز مرہ کے حوادث میں  رحمٰن ذات کی قضاء کا لزوم<br>1:45:26  اہلِ برہان اور اصحاب الشرائع کے حالات کا جائزہ اور شاہ صاحبؒ کی علمی نصیحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 03<br>(فاتحہ؛فصل 1)<br>فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ </p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ : 01؍ فروری 2023ء / 09 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:18 سابقہ درس کا خلاصہ<br>1:29 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے والوں کے مختلف طبقات اور نتائجِ فکر<br>3:32 خالق و مخلوق کے تعلق پر غور وفکر کرنے والے حضراتِ انبیاءعلیھم السلام<br>4:30 انبیاءؑ کے بعد، مُحَدَّثین کا اس غور و فکر  میں درجۂ کمال<br>5:08 مُحَدَّث؛ نبی کی بات کو عقل و برہان اور شعور و فہم کے ساتھ سمجھنے والا<br>6:30 مُحَدَّثین کے بعد، اس غور وفکر صوفیائے کِرام کا درجہ<br>7:31 فلسفۂ مَشائیہ و اِشراقیہ کے بانیان؛ ارسطو و افلاطون<br>8:46 حقائقِ کائنات کے مادی فلسفے سے اختلاف اور اِشراق  کی بنیاد<br>10:15 فلسفۂ مشائیہ کے عرب فقہاء ؛مالکیہ و شوافع پر گہرے اثرات<br>11:49 ارسطو کی تعلیمات کے زیرِ اثر مسلمان فلاسفہ ؛ بو علی سیناؒ و ابن رشد ؒ<br>12:38 فلسفۂ اشراق کے زیرِ اثر مسلمان صوفیائے کِرامؒ<br>13:40 شیخ شہاب الدین مقتولؒ کا افلاطون کے نظریۂ اِشراق کا احیاء<br>14:50 مشائیہ کے زیرِ اثر صوفیاء کے ایک سلسلے کا المیہ<br>16:22 مشائیہ کے ناقص اور ادھورے تصورات آج بھی درس نظامی کے نصاب کا حصہ<br>17:33 مشائیین کا واجب الوجود یا وجود اقصی کی حقیقت کو مجبوراً تسلیم کرنے کا فلسفہ<br>20:15 وجودِ اقصیٰ کے بارے میں مشائیین کی دو بڑی غلط فہمیاں اور شاہ صاحبؒ کا ردّ<br>24:53 حقیقتِ واجبہ یا حقیقتِ قُدسیہ سے متعلق فلاسفہ کے تیسرے وہم کا عقلی رد<br>30:31 صادرِ اول اور حقیقتِ قصویٰ میں عنوان اور مفہوم کی نسبت‘ مثال سے وضاحت<br>32:35 حکمتِ ربّانیہ کی اصطلاح میں صادرِ اول  کے مختلف نام <br>34:19 صادرِ اول‘ دراصل وجودِ اقصیٰ کی تجلی ہے<br>36:24  ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاتِ مطلقہ میں آخری تجلئ بحت‘ کل موجودات کی مبدأِ اول<br>36:52 ’’موجود الکل‘‘ شاہ صاحبؒ کی ایک اصطلاح <br>37:30 الرحمٰن؛ عرش سے لے کر فرش تمام مخلوقات کا مبدأِاول نیز اسمِ ذات کا عنوان<br>40:15 مشائیہ کا چوتھا وہمِ ظُلمانی؛ حقائقِ کائنات ایک وحدت کے تحت مجتمع نہیں ہیں<br>45:21 کائنات ایک کلمے سے پیدا ہوئی ہے تو موجود الکل میں وحدت کیوں نہیں؟چوتھے وہم ظلمانی کا عقلی رد <br>46:29 وحدتِ کی حقیقت اور درجات کے تناظر میں شخصِ اکبر کی وحدت کی توضیح  <br>47:38 شخصِ اکبر کے عالم گیر تدبیرِ وُحدانی کے تحت کام کرنے پر دلائل<br>51:06 فلاسفہ و صوفیاء کے علومِ باطنہ میں عالمگیر تدبیر ِ وحدانی کا اعتراف موجود ہے <br>52:30 فلاسفہ  مشائیہ کے ہاں تدبیر وحدانی کے اعتراف کا ذکر<br>56:16 فلک الافلاک کے اوپر شخصِ اکبر میں تدبیرِ وحدانی کیوں کام نہیں کر رہی؟ فلاسفہ کا رد<br>57:32 تدبیرِ وُحدانی اصحابِ شرائع کے ہاں تسلیم شدہ<br>58:34 تدبیرِ وحدانی کا کنٹرول رحمان ذات کے قبضے میں ہے<br>59:53 دنیا میں صفتِ رحمٰن اور آخرت میں صفتِ رحیم کا اظہار <br>1:01:58 صفتِ رحمان کے اوصاف کی عمومیت<br>1:04:49 اسمِ رحمان کی حقیقت؛ کائنات کی ہر شے سے براہ راست تعلق<br>1:07:07 ’’الرحمٰن‘‘ ہر انسان کے تقرّر اور زندگی کے تمام مراحل کا واحد ذریعہ<br>1:11:35 الرحمٰن اسمِ بحت میں کوئی تکثر نہیں! فلسفیوں کے وہمی سوال کا جواب<br>1:13:26 کسی نوع یا شخص کے مُخَصَّصَات کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد اِعطاءِ وجود<br>1:16:32 مُخَصَّصَات کہاں سے آتے ہیں؟ اس عقلی سوال کے جواب میں شخصِ اکبر میں تین طرح کی قوّتیں اور ان کے حاملات کی تفصیلات<br>1:17:37 شخصِ اکبر میں پہلی قوت طبیعت الکل ہے<br>1:19:58 دوسری قوت؛ قُوَائے اِدراکیہ<br>1:21:11 تیسری قوت؛ اِلٰہی قوتیں<br>1:22:23 ان قوتوں کے جِبِلی و فطری ملاپ کے شخصِ اکبر پر اثرات ونتائج<br>1:26:13 صوفیاء و فلاسفہ کے ہاں حقیقتِ مجرّدہ کی مختلف تعبیرات<br>1:27:01 شاہ صاحب ؒ کی اصطلاح میں حقیقتِ مجردہ کو’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔<br>1:27:55 ہر نوع کا امام  ’’عین‘‘ کہلاتا ہے نیز ہر نوع کے مُخصّصات کا تعیّن<br>1:29:43 صوفیاء ’’باطن الوجود“   کو حقیقتِ مجردہ سمجھ کر، رک گئے<br>1:30:37 صوفیاء نے وجودِ اقصیٰ تک جانے کا آسان راستہ اختیار نہیں کیا<br>1:31:32 شاہ صاحبؒ کو وجودِ اقصیٰ تک جانے والی شاہراہ پر چلنے کی توفیق ہوئی<br>1:32:06 سلوک الی اللہ کے راستے ؛ نیز کاملین کا درجہ' سب سے اعلیٰ <br>1:33:21 صوفیاء کی حالت ؛ اسمائے الٰہیہ کے باطن میں فنا اور ظاہر سے بے خبر<br>1:34:16 مشائیہ کے فتنے کے دور میں اشراقی فلاسفہ کے حقیقی علوم کا خاتمہ <br>1:35:48 فاتحہ کی مباحث‘ مشائیین اور اشراقیین کے تفصیلی نقطۂ نظر کی متحمل نہیں!<br>1:37:17 موجودات میں علت و معلول کا نظام<br>1:38:34 علت و معلول کے نظام کی علتِ اولیٰ ؛ ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی<br>1:40:57 ہر وقوع پذیر ہونے والے حادثے کو صورت' عطاء کرنے والی ’’اَلرَّحمٰن‘‘ ذات<br>1:42:23 ذاتِ باری تعالیٰ کا ہر صورت پر احاطہ اور مظہر کمال<br>1:42:56 ہر صورتِ خاصہ کے معرضِ وجود سے پہلے مطلوبہ استعداد کی ضرورت<br>1:44:39 روز مرہ کے حوادث میں  رحمٰن ذات کی قضاء کا لزوم<br>1:45:26  اہلِ برہان اور اصحاب الشرائع کے حالات کا جائزہ اور شاہ صاحبؒ کی علمی نصیحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 16:25:19 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/8953569f/bc528244.mp3" length="104814445" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/NEKnpZtbkTYrdWnz2ziWWTzdAKr1z3kpt1123j-j0cI/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9jOWFl/ZWEwNGRjMTM2NThj/ZDlhOTBmNGE4NWUw/MTFjOS5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>6524</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 03<br>(فاتحہ؛فصل 1)<br>فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ </p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ : 01؍ فروری 2023ء / 09 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:18 سابقہ درس کا خلاصہ<br>1:29 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے والوں کے مختلف طبقات اور نتائجِ فکر<br>3:32 خالق و مخلوق کے تعلق پر غور وفکر کرنے والے حضراتِ انبیاءعلیھم السلام<br>4:30 انبیاءؑ کے بعد، مُحَدَّثین کا اس غور و فکر  میں درجۂ کمال<br>5:08 مُحَدَّث؛ نبی کی بات کو عقل و برہان اور شعور و فہم کے ساتھ سمجھنے والا<br>6:30 مُحَدَّثین کے بعد، اس غور وفکر صوفیائے کِرام کا درجہ<br>7:31 فلسفۂ مَشائیہ و اِشراقیہ کے بانیان؛ ارسطو و افلاطون<br>8:46 حقائقِ کائنات کے مادی فلسفے سے اختلاف اور اِشراق  کی بنیاد<br>10:15 فلسفۂ مشائیہ کے عرب فقہاء ؛مالکیہ و شوافع پر گہرے اثرات<br>11:49 ارسطو کی تعلیمات کے زیرِ اثر مسلمان فلاسفہ ؛ بو علی سیناؒ و ابن رشد ؒ<br>12:38 فلسفۂ اشراق کے زیرِ اثر مسلمان صوفیائے کِرامؒ<br>13:40 شیخ شہاب الدین مقتولؒ کا افلاطون کے نظریۂ اِشراق کا احیاء<br>14:50 مشائیہ کے زیرِ اثر صوفیاء کے ایک سلسلے کا المیہ<br>16:22 مشائیہ کے ناقص اور ادھورے تصورات آج بھی درس نظامی کے نصاب کا حصہ<br>17:33 مشائیین کا واجب الوجود یا وجود اقصی کی حقیقت کو مجبوراً تسلیم کرنے کا فلسفہ<br>20:15 وجودِ اقصیٰ کے بارے میں مشائیین کی دو بڑی غلط فہمیاں اور شاہ صاحبؒ کا ردّ<br>24:53 حقیقتِ واجبہ یا حقیقتِ قُدسیہ سے متعلق فلاسفہ کے تیسرے وہم کا عقلی رد<br>30:31 صادرِ اول اور حقیقتِ قصویٰ میں عنوان اور مفہوم کی نسبت‘ مثال سے وضاحت<br>32:35 حکمتِ ربّانیہ کی اصطلاح میں صادرِ اول  کے مختلف نام <br>34:19 صادرِ اول‘ دراصل وجودِ اقصیٰ کی تجلی ہے<br>36:24  ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاتِ مطلقہ میں آخری تجلئ بحت‘ کل موجودات کی مبدأِ اول<br>36:52 ’’موجود الکل‘‘ شاہ صاحبؒ کی ایک اصطلاح <br>37:30 الرحمٰن؛ عرش سے لے کر فرش تمام مخلوقات کا مبدأِاول نیز اسمِ ذات کا عنوان<br>40:15 مشائیہ کا چوتھا وہمِ ظُلمانی؛ حقائقِ کائنات ایک وحدت کے تحت مجتمع نہیں ہیں<br>45:21 کائنات ایک کلمے سے پیدا ہوئی ہے تو موجود الکل میں وحدت کیوں نہیں؟چوتھے وہم ظلمانی کا عقلی رد <br>46:29 وحدتِ کی حقیقت اور درجات کے تناظر میں شخصِ اکبر کی وحدت کی توضیح  <br>47:38 شخصِ اکبر کے عالم گیر تدبیرِ وُحدانی کے تحت کام کرنے پر دلائل<br>51:06 فلاسفہ و صوفیاء کے علومِ باطنہ میں عالمگیر تدبیر ِ وحدانی کا اعتراف موجود ہے <br>52:30 فلاسفہ  مشائیہ کے ہاں تدبیر وحدانی کے اعتراف کا ذکر<br>56:16 فلک الافلاک کے اوپر شخصِ اکبر میں تدبیرِ وحدانی کیوں کام نہیں کر رہی؟ فلاسفہ کا رد<br>57:32 تدبیرِ وُحدانی اصحابِ شرائع کے ہاں تسلیم شدہ<br>58:34 تدبیرِ وحدانی کا کنٹرول رحمان ذات کے قبضے میں ہے<br>59:53 دنیا میں صفتِ رحمٰن اور آخرت میں صفتِ رحیم کا اظہار <br>1:01:58 صفتِ رحمان کے اوصاف کی عمومیت<br>1:04:49 اسمِ رحمان کی حقیقت؛ کائنات کی ہر شے سے براہ راست تعلق<br>1:07:07 ’’الرحمٰن‘‘ ہر انسان کے تقرّر اور زندگی کے تمام مراحل کا واحد ذریعہ<br>1:11:35 الرحمٰن اسمِ بحت میں کوئی تکثر نہیں! فلسفیوں کے وہمی سوال کا جواب<br>1:13:26 کسی نوع یا شخص کے مُخَصَّصَات کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد اِعطاءِ وجود<br>1:16:32 مُخَصَّصَات کہاں سے آتے ہیں؟ اس عقلی سوال کے جواب میں شخصِ اکبر میں تین طرح کی قوّتیں اور ان کے حاملات کی تفصیلات<br>1:17:37 شخصِ اکبر میں پہلی قوت طبیعت الکل ہے<br>1:19:58 دوسری قوت؛ قُوَائے اِدراکیہ<br>1:21:11 تیسری قوت؛ اِلٰہی قوتیں<br>1:22:23 ان قوتوں کے جِبِلی و فطری ملاپ کے شخصِ اکبر پر اثرات ونتائج<br>1:26:13 صوفیاء و فلاسفہ کے ہاں حقیقتِ مجرّدہ کی مختلف تعبیرات<br>1:27:01 شاہ صاحب ؒ کی اصطلاح میں حقیقتِ مجردہ کو’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔<br>1:27:55 ہر نوع کا امام  ’’عین‘‘ کہلاتا ہے نیز ہر نوع کے مُخصّصات کا تعیّن<br>1:29:43 صوفیاء ’’باطن الوجود“   کو حقیقتِ مجردہ سمجھ کر، رک گئے<br>1:30:37 صوفیاء نے وجودِ اقصیٰ تک جانے کا آسان راستہ اختیار نہیں کیا<br>1:31:32 شاہ صاحبؒ کو وجودِ اقصیٰ تک جانے والی شاہراہ پر چلنے کی توفیق ہوئی<br>1:32:06 سلوک الی اللہ کے راستے ؛ نیز کاملین کا درجہ' سب سے اعلیٰ <br>1:33:21 صوفیاء کی حالت ؛ اسمائے الٰہیہ کے باطن میں فنا اور ظاہر سے بے خبر<br>1:34:16 مشائیہ کے فتنے کے دور میں اشراقی فلاسفہ کے حقیقی علوم کا خاتمہ <br>1:35:48 فاتحہ کی مباحث‘ مشائیین اور اشراقیین کے تفصیلی نقطۂ نظر کی متحمل نہیں!<br>1:37:17 موجودات میں علت و معلول کا نظام<br>1:38:34 علت و معلول کے نظام کی علتِ اولیٰ ؛ ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی<br>1:40:57 ہر وقوع پذیر ہونے والے حادثے کو صورت' عطاء کرنے والی ’’اَلرَّحمٰن‘‘ ذات<br>1:42:23 ذاتِ باری تعالیٰ کا ہر صورت پر احاطہ اور مظہر کمال<br>1:42:56 ہر صورتِ خاصہ کے معرضِ وجود سے پہلے مطلوبہ استعداد کی ضرورت<br>1:44:39 روز مرہ کے حوادث میں  رحمٰن ذات کی قضاء کا لزوم<br>1:45:26  اہلِ برہان اور اصحاب الشرائع کے حالات کا جائزہ اور شاہ صاحبؒ کی علمی نصیحت</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 02 | وجودِ اقصیٰ صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ</title>
      <itunes:episode>2</itunes:episode>
      <podcast:episode>2</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 02 | وجودِ اقصیٰ صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">4085585b-3434-40d8-85ee-332c2d85247a</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/1a064e47</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 02<br>(فاتحہ؛ فصل 1)<br>وجودِ اقصیٰ اور صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 25؍ جنوری 2023ء / 02 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:20 محققین کی مسائلِ حکمت و حقائق کی تفتیش و تحقیق اور امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نکتۂ نظر<br>2:23 پہلی فصل میں وجودِ اقصیٰ، صادرِ اول اور تدبیرِ وحدانی کی تحقیق<br>3:29 فاتحہ میں حکماء کی دس بڑی غلطیوں کی نشان دہی<br>4:35 حکماء و محققین کی زیادہ تر حکمتِ الٰہیہ میں غلطیاں و کوتاہیاں<br>5:56 حکمت و فلسفہ کا پہلا سکول آف تھاٹ  ہندستان تھا<br>8:14 منطق و فلسفہ کا آخری سکول آف تھاٹ<br>9:36 یونانیوں کے دو بنیادی گروہ؛ مشائین اور اشراقیین نیز علومِ طب کی دریافت<br>11:20 فلکیاتی علوم کی ایجاد<br>12:12 خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نظام<br>14:38 مرورِ زمانہ سے انبیاء کی تعلیمات میں تحریفات کا سلسلہ شروع ہوا<br>15:48 مخلوقات کی اشتراکی وامتیازی خصوصیات<br>19:11 ما بہ الاشتراک کی اساس پر کائنات پر غوروفکر اور وجود کی تحقیق و تفتیش<br>23:55 وجود کی تین قسمیں<br>24:59 وجودِ اقصیٰ کا اطلاق<br>26:11 وجودِ اقصی کی حقیقت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ<br>27:10 وجودِ اقصیٰ کا تعلق عقل سے نہیں‘ فلاسفہ کا وہم ظلمانی<br>27:48 ظلمانی وہم کا تعلق حجابات سے ہے<br>28:23 حکماء اور عقلاء پر حجابِ سوءِ معرفہ کا غلبہ<br>30:14 وجودِ اقصیٰ وجود  کا ایک فرد‘ فلاسفہ کے پہلے وہم ظلمانی کا رد<br>33:22 منطق و فلسفہ کے عالم ملا صدر الدین شیرازی کی کج فہمی<br>34:23 وجودِ اقصیٰ‘ وجود کا فرد نہیں؛ فلاسفہ کے عقلی دلائل<br>35:52 کائنات کی تمام موجودات پر وجودِ اقصیٰ احاطہ کیے ہوئے ہے<br>36:58 لفظِ ’’الوجود‘‘ کا مفہوم انتزاعی ہے، تو وجودِ اقصیٰ اس کافرد کیسے ہوا؟<br>38:59 تمام حقائق کے مراکز‘حقیقتِ قصویٰ کے تحت درج اور اسکی شرح و تفصیل<br>41:52 لمحات میں وجودِ الاقصیٰ کے لیے ”أول الأوائل“  کی اصطلاح<br>42:18 شریعت کی رو سے وجودِ اقصیٰ دراصل اسم”الرحمٰن“ ہے<br>45:09 حقائق کائنات سر متعلق انبیاء کے علوم میں تحریفات<br>46:03 مناطقہ و فلاسفہ کی وجودِ اقصیٰ کو وجود کا فرد ماننے کی پہلی دلیل<br>49:58 فلاسفہ کے وہمِ ظلمانی کی دوسری دلیل اور عقلی رد<br>51:27 موجودات کے متعلق فلاسفہ یونان کے دو سکول آف تھاٹ<br>53:14 کائنات کی ہر چیز اپنے وجود اور ساخت میں تجلئ رحمان کی محتاج<br>56:06 وجودِ اقصیٰ (الرحمن) کا ہر پیدا ہونے والی چیز کے ساتھ براہِ راست تعلق<br>1:01:02 ہر مخلوق اللہ کی شان کا مظہر اور منفرد آثار و خواص رکھتی ہے<br>1:02:54 وجودِ اقصیٰ کو علت العلل کی بنیاد پر ماننے کا عقلی بطلان نیز وحدتِ حقّہ یا تجلئ رحمان کی حقیقت<br>1:05:22 فلاسفہ کا مقولہ”لا یصدر من الواحد إلاالواحد“درست لیکن اس کی تفصیلات غلط<br>1:06:38 صادرِ اول کے بارے میں فلاسفہ کے وہم کا اجمالی جائزہ<br>1:07:45 ان کے ہاں صادرِ اول حقائق میں سے ایک حقیقت ہے<br>1:09:05 فلاسفہ کے نکتۂ نظر میں ہر عقل اور ہر فلک مستقل طور پر الگ الگ حقیقتیں ہیں<br>1:10:45 صادرِ اول بہت ساری انیّات پر مشتمل انیّةِ کبریٰ (شخصِ اکبر) ہے<br>1:12:54 کائنات کی ہر حقیقت شخصِ اکبر میں سموئے ہوئے ہے<br>1:14:32 فلاسفہ کے نکتۂ نظر کا تحقیقی جائزہ<br>1:17:12 شخص اکبر وجودِ اقصیٰ کا پرتو‘ مثالوں سے وضاحت<br>1:19:21 حرف ’’من‘‘  کی مثال سے اس حقیقت کی مزید توضیح<br>1:21:55 شخصِ اکبر حقیقتِ قصویٰ تک پہنچنے کا ذریعہ اور معنون کا عنوان<br>1:21:55تجلی اور اسم کے عنوان کی وضاحت<br>1:23:18 شخصِ اکبر (صادرِ اول)،شخصِ اصغر(انسان)، انسانِ کبیر(امامِ نوعِ انسانی) سب تجلئ رحمان کے تنزلات <br>1:25:40 شخصِ اکبر کے چاروں طرف ’’الرحمان‘‘ کا نور ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 02<br>(فاتحہ؛ فصل 1)<br>وجودِ اقصیٰ اور صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 25؍ جنوری 2023ء / 02 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:20 محققین کی مسائلِ حکمت و حقائق کی تفتیش و تحقیق اور امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نکتۂ نظر<br>2:23 پہلی فصل میں وجودِ اقصیٰ، صادرِ اول اور تدبیرِ وحدانی کی تحقیق<br>3:29 فاتحہ میں حکماء کی دس بڑی غلطیوں کی نشان دہی<br>4:35 حکماء و محققین کی زیادہ تر حکمتِ الٰہیہ میں غلطیاں و کوتاہیاں<br>5:56 حکمت و فلسفہ کا پہلا سکول آف تھاٹ  ہندستان تھا<br>8:14 منطق و فلسفہ کا آخری سکول آف تھاٹ<br>9:36 یونانیوں کے دو بنیادی گروہ؛ مشائین اور اشراقیین نیز علومِ طب کی دریافت<br>11:20 فلکیاتی علوم کی ایجاد<br>12:12 خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نظام<br>14:38 مرورِ زمانہ سے انبیاء کی تعلیمات میں تحریفات کا سلسلہ شروع ہوا<br>15:48 مخلوقات کی اشتراکی وامتیازی خصوصیات<br>19:11 ما بہ الاشتراک کی اساس پر کائنات پر غوروفکر اور وجود کی تحقیق و تفتیش<br>23:55 وجود کی تین قسمیں<br>24:59 وجودِ اقصیٰ کا اطلاق<br>26:11 وجودِ اقصی کی حقیقت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ<br>27:10 وجودِ اقصیٰ کا تعلق عقل سے نہیں‘ فلاسفہ کا وہم ظلمانی<br>27:48 ظلمانی وہم کا تعلق حجابات سے ہے<br>28:23 حکماء اور عقلاء پر حجابِ سوءِ معرفہ کا غلبہ<br>30:14 وجودِ اقصیٰ وجود  کا ایک فرد‘ فلاسفہ کے پہلے وہم ظلمانی کا رد<br>33:22 منطق و فلسفہ کے عالم ملا صدر الدین شیرازی کی کج فہمی<br>34:23 وجودِ اقصیٰ‘ وجود کا فرد نہیں؛ فلاسفہ کے عقلی دلائل<br>35:52 کائنات کی تمام موجودات پر وجودِ اقصیٰ احاطہ کیے ہوئے ہے<br>36:58 لفظِ ’’الوجود‘‘ کا مفہوم انتزاعی ہے، تو وجودِ اقصیٰ اس کافرد کیسے ہوا؟<br>38:59 تمام حقائق کے مراکز‘حقیقتِ قصویٰ کے تحت درج اور اسکی شرح و تفصیل<br>41:52 لمحات میں وجودِ الاقصیٰ کے لیے ”أول الأوائل“  کی اصطلاح<br>42:18 شریعت کی رو سے وجودِ اقصیٰ دراصل اسم”الرحمٰن“ ہے<br>45:09 حقائق کائنات سر متعلق انبیاء کے علوم میں تحریفات<br>46:03 مناطقہ و فلاسفہ کی وجودِ اقصیٰ کو وجود کا فرد ماننے کی پہلی دلیل<br>49:58 فلاسفہ کے وہمِ ظلمانی کی دوسری دلیل اور عقلی رد<br>51:27 موجودات کے متعلق فلاسفہ یونان کے دو سکول آف تھاٹ<br>53:14 کائنات کی ہر چیز اپنے وجود اور ساخت میں تجلئ رحمان کی محتاج<br>56:06 وجودِ اقصیٰ (الرحمن) کا ہر پیدا ہونے والی چیز کے ساتھ براہِ راست تعلق<br>1:01:02 ہر مخلوق اللہ کی شان کا مظہر اور منفرد آثار و خواص رکھتی ہے<br>1:02:54 وجودِ اقصیٰ کو علت العلل کی بنیاد پر ماننے کا عقلی بطلان نیز وحدتِ حقّہ یا تجلئ رحمان کی حقیقت<br>1:05:22 فلاسفہ کا مقولہ”لا یصدر من الواحد إلاالواحد“درست لیکن اس کی تفصیلات غلط<br>1:06:38 صادرِ اول کے بارے میں فلاسفہ کے وہم کا اجمالی جائزہ<br>1:07:45 ان کے ہاں صادرِ اول حقائق میں سے ایک حقیقت ہے<br>1:09:05 فلاسفہ کے نکتۂ نظر میں ہر عقل اور ہر فلک مستقل طور پر الگ الگ حقیقتیں ہیں<br>1:10:45 صادرِ اول بہت ساری انیّات پر مشتمل انیّةِ کبریٰ (شخصِ اکبر) ہے<br>1:12:54 کائنات کی ہر حقیقت شخصِ اکبر میں سموئے ہوئے ہے<br>1:14:32 فلاسفہ کے نکتۂ نظر کا تحقیقی جائزہ<br>1:17:12 شخص اکبر وجودِ اقصیٰ کا پرتو‘ مثالوں سے وضاحت<br>1:19:21 حرف ’’من‘‘  کی مثال سے اس حقیقت کی مزید توضیح<br>1:21:55 شخصِ اکبر حقیقتِ قصویٰ تک پہنچنے کا ذریعہ اور معنون کا عنوان<br>1:21:55تجلی اور اسم کے عنوان کی وضاحت<br>1:23:18 شخصِ اکبر (صادرِ اول)،شخصِ اصغر(انسان)، انسانِ کبیر(امامِ نوعِ انسانی) سب تجلئ رحمان کے تنزلات <br>1:25:40 شخصِ اکبر کے چاروں طرف ’’الرحمان‘‘ کا نور ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 08:20:57 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/1a064e47/8a955407.mp3" length="84462503" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/o6JpvEy2F301t2VTuF00YWhYrMQm25L1gfqwX57Nv4E/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS9hOTk3/ZjZjMzU3ODY2ODFj/ZTVlYzk5NmI3NDY2/MTM4Ni5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>5261</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<p> درس: 02<br>(فاتحہ؛ فصل 1)<br>وجودِ اقصیٰ اور صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 25؍ جنوری 2023ء / 02 رجب المرجب 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇<br>0:00 آغاز<br>0:20 محققین کی مسائلِ حکمت و حقائق کی تفتیش و تحقیق اور امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نکتۂ نظر<br>2:23 پہلی فصل میں وجودِ اقصیٰ، صادرِ اول اور تدبیرِ وحدانی کی تحقیق<br>3:29 فاتحہ میں حکماء کی دس بڑی غلطیوں کی نشان دہی<br>4:35 حکماء و محققین کی زیادہ تر حکمتِ الٰہیہ میں غلطیاں و کوتاہیاں<br>5:56 حکمت و فلسفہ کا پہلا سکول آف تھاٹ  ہندستان تھا<br>8:14 منطق و فلسفہ کا آخری سکول آف تھاٹ<br>9:36 یونانیوں کے دو بنیادی گروہ؛ مشائین اور اشراقیین نیز علومِ طب کی دریافت<br>11:20 فلکیاتی علوم کی ایجاد<br>12:12 خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نظام<br>14:38 مرورِ زمانہ سے انبیاء کی تعلیمات میں تحریفات کا سلسلہ شروع ہوا<br>15:48 مخلوقات کی اشتراکی وامتیازی خصوصیات<br>19:11 ما بہ الاشتراک کی اساس پر کائنات پر غوروفکر اور وجود کی تحقیق و تفتیش<br>23:55 وجود کی تین قسمیں<br>24:59 وجودِ اقصیٰ کا اطلاق<br>26:11 وجودِ اقصی کی حقیقت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ<br>27:10 وجودِ اقصیٰ کا تعلق عقل سے نہیں‘ فلاسفہ کا وہم ظلمانی<br>27:48 ظلمانی وہم کا تعلق حجابات سے ہے<br>28:23 حکماء اور عقلاء پر حجابِ سوءِ معرفہ کا غلبہ<br>30:14 وجودِ اقصیٰ وجود  کا ایک فرد‘ فلاسفہ کے پہلے وہم ظلمانی کا رد<br>33:22 منطق و فلسفہ کے عالم ملا صدر الدین شیرازی کی کج فہمی<br>34:23 وجودِ اقصیٰ‘ وجود کا فرد نہیں؛ فلاسفہ کے عقلی دلائل<br>35:52 کائنات کی تمام موجودات پر وجودِ اقصیٰ احاطہ کیے ہوئے ہے<br>36:58 لفظِ ’’الوجود‘‘ کا مفہوم انتزاعی ہے، تو وجودِ اقصیٰ اس کافرد کیسے ہوا؟<br>38:59 تمام حقائق کے مراکز‘حقیقتِ قصویٰ کے تحت درج اور اسکی شرح و تفصیل<br>41:52 لمحات میں وجودِ الاقصیٰ کے لیے ”أول الأوائل“  کی اصطلاح<br>42:18 شریعت کی رو سے وجودِ اقصیٰ دراصل اسم”الرحمٰن“ ہے<br>45:09 حقائق کائنات سر متعلق انبیاء کے علوم میں تحریفات<br>46:03 مناطقہ و فلاسفہ کی وجودِ اقصیٰ کو وجود کا فرد ماننے کی پہلی دلیل<br>49:58 فلاسفہ کے وہمِ ظلمانی کی دوسری دلیل اور عقلی رد<br>51:27 موجودات کے متعلق فلاسفہ یونان کے دو سکول آف تھاٹ<br>53:14 کائنات کی ہر چیز اپنے وجود اور ساخت میں تجلئ رحمان کی محتاج<br>56:06 وجودِ اقصیٰ (الرحمن) کا ہر پیدا ہونے والی چیز کے ساتھ براہِ راست تعلق<br>1:01:02 ہر مخلوق اللہ کی شان کا مظہر اور منفرد آثار و خواص رکھتی ہے<br>1:02:54 وجودِ اقصیٰ کو علت العلل کی بنیاد پر ماننے کا عقلی بطلان نیز وحدتِ حقّہ یا تجلئ رحمان کی حقیقت<br>1:05:22 فلاسفہ کا مقولہ”لا یصدر من الواحد إلاالواحد“درست لیکن اس کی تفصیلات غلط<br>1:06:38 صادرِ اول کے بارے میں فلاسفہ کے وہم کا اجمالی جائزہ<br>1:07:45 ان کے ہاں صادرِ اول حقائق میں سے ایک حقیقت ہے<br>1:09:05 فلاسفہ کے نکتۂ نظر میں ہر عقل اور ہر فلک مستقل طور پر الگ الگ حقیقتیں ہیں<br>1:10:45 صادرِ اول بہت ساری انیّات پر مشتمل انیّةِ کبریٰ (شخصِ اکبر) ہے<br>1:12:54 کائنات کی ہر حقیقت شخصِ اکبر میں سموئے ہوئے ہے<br>1:14:32 فلاسفہ کے نکتۂ نظر کا تحقیقی جائزہ<br>1:17:12 شخص اکبر وجودِ اقصیٰ کا پرتو‘ مثالوں سے وضاحت<br>1:19:21 حرف ’’من‘‘  کی مثال سے اس حقیقت کی مزید توضیح<br>1:21:55 شخصِ اکبر حقیقتِ قصویٰ تک پہنچنے کا ذریعہ اور معنون کا عنوان<br>1:21:55تجلی اور اسم کے عنوان کی وضاحت<br>1:23:18 شخصِ اکبر (صادرِ اول)،شخصِ اصغر(انسان)، انسانِ کبیر(امامِ نوعِ انسانی) سب تجلئ رحمان کے تنزلات <br>1:25:40 شخصِ اکبر کے چاروں طرف ’’الرحمان‘‘ کا نور ہے</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute<br>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
    <item>
      <title>البدور البازغہ | 01 |  البدور البازغة کا تعارف اور مباحث کا خلاصہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری</title>
      <itunes:episode>1</itunes:episode>
      <podcast:episode>1</podcast:episode>
      <itunes:title>البدور البازغہ | 01 |  البدور البازغة کا تعارف اور مباحث کا خلاصہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری</itunes:title>
      <itunes:episodeType>full</itunes:episodeType>
      <guid isPermaLink="false">775e9876-4ce4-4a2b-ac00-493b9958bd2e</guid>
      <link>https://share.transistor.fm/s/ef9a2c4c</link>
      <description>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 01<p> (دیباچہ و فاتحہ)<br> البدور البازغة کا تعارف اور بنیادی مباحث کا خلاصہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 18؍ جنوری 2023ء / 25 جمادی الاخری 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ <br>0:00 آغاز<br>0:33 بدورِ بازغه کا آغاز<br>1:01 فیوض الحرمین؛  حقائق کائنات کے مشاہدات اور علمی تحقیقات کا مجموعہ <br>2:22 مَشہد اور علمی تحقیق  میں فرق<br>2:48 حجة الله البالغة کا تصنیفی پسِ منظر اور بنیادی مضامین<br>4:29 علمِ حدیث کی چوتھی قسم جس کا حجة الله کے مقدمے میں تذکرہ؛ درس 01 کا لنک <br>https://youtu.be/Qqg1pEewEt8<br>5:16 حجة اللہ کے آخری درس کا لنک<br>https://youtu.be/vxzUKwWMhFs<br>6:04  حکمائے ربانیّن، مجدّدینِ امت پر تفہیماتِ الہیہ کا نزول<br>6:45 مُفھّمین و مُحدَّثین کی تعریف اور دونوں قرآن وحدیث سے ماخوذ <br> 8:05تفہیم کی تعریف؛ اللہ کی مرضیات  کی حالت و کیفیت و عزم کا طاری ہونا<br>10:09 مُحدَّث و مجدّد اور نبی میں جوہری فرق <br>11:19 علومِ نبوت اور تفہیماتِ ربانیہ میں فرق و امتیاز<br>11:42 حجة الله میں مفہمین کی اقسام سے متعلقہ درس 59 کا لنک:<br>https://youtu.be/hK18ezy3U_4<br>12:35 البدورالبازغه  میں علومِ نبوت کی حکمت کے اصول پروضاحت <br>13:52 تفہیمات اور حکمت کےمطابق علومِ نبوت کی تشریح <br>14:23 حجة اللہ البالغہ کے مقدمے کی بحث کا لنک:<br>https://youtu.be/rsN3_NW8n2U<br>16:07 شاہ صاحبؒ کا اُسلوبِ حکمت اور طرزِ تفہیم<br>17:19حکماء و فلاسفہ کے تصورات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین <br>19:04 شاہ صاحبؒ کا انداز و اسلوب؛ شخصیات کا نام لیے بغیر ان کے نظریات کو زیرِ بحث لانا<br>20:04 بدورِبازغه  کے آغاز سے پہلے مبادیاتِ حکمت سمجھنا ضروری <br>21:23 علم وحکمت کی تعریف، حکمتِ نظریہ اور اس کا دائرہ کار<br>23:44 حکمتِ نظریہ میں تحقیق و تفتیش کی دو صورتیں<br>24:51 حکمتِ عملیہ  کی تعریف اور حکمتِ نظریہ و عملیہ میں فرق<br> 26:35حکمتِ عملیہ کی پہلی قسم؛ تہذیب الاخلاق<br>27:38 دوسری قسم؛ تدبیرالمنزل<br>✔️ تیسری قسم:  سیاست المدینه<br>28:16 ارتفاقِ ثانی کی پانچ حکمتوں سے متعلق دروس کے لنکس:<br>۱۔ ارتفاق دوم میں فنّ آدابِ معاش (زندگی بسر کرنے کی حکمت عملی) کی اہمیت<br>https://youtu.be/1lOawuGywDM<br>۲۔ ارتفاقِ دوم میں حکمتِ منزلیہ (منزلی نظام) کی اہمیت اور اس کے امور<br>https://youtu.be/JEux7P-fQs4<br>۳۔ ارتفاقِ دوم میں تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور مہارتوں و پیشوں کے علوم کی اہمیت <br>https://youtu.be/W8jXil8fWos<br>28:29 تیسری قسم: سیاست المدینه<br>ارتفاقِ سوم (سیاستِ مدینہ) کے ضروری امور اور ممالک کی تباہی و بربادی کے بنیادی اسباب<br>https://youtu.be/VlnsDi7fpqs<br>28:47 نبی اکرمؐ نے  حکمت کی چوتھی قسم؛ خلافتِ کبریٰ متعارف کرائی<br>29:21 حکمتِ نظریہ کی تین قسمیں؛ پہلی قسم: حکمتِ ریاضیہ<br>31:20 حکمتِ نظریہ کی دوسری قسم: حکمتِ طبیعی<br>32:44 تیسری قسم: حکمتِ الہیہ<br>33:33 امام شاہ ولی اللہؒ کی حکمت کی ان اقسام سے  تحقیقی بحث <br>34:52 البدورالبازغه میں حکمت کے اصولوں کی توضیح پر مشتمل تین مقالے <br>37:04 البدورالبازغه میں حکمت کے اُسلوب پر دینِ اسلام کے مکمل نظام کا احاطہ<br>38:36 انسانیت کو ’’وجود‘‘ بخشنے والی ذات کی حمد و ثنا  کے ساتھ کتاب کا آغاز<br>40:03 معایش (ضروریات وحاجات) کو پورا کرنے کے لیے انسان کو وحئ طبیعی <br>41:12 انسانی حوائج کو پورا کرنے کے لیے ارتفاقات و تقدیر کا نظام<br>42:20 ”فأوحٰى إليه معايشه“ سے کتاب کے پہلے مقالے کی طرف اشارہ<br>42:33 انسان کو تقربِ بارگاہ الٰہی  کے فطری و طبعی طریقوں کا الہام<br>43:13 ہر شے پر قبضہ قدرت میں ہے<br>43:51 علوم الاقترابات  والارتفاقات  کی بنیاد پر انسان کی امتیازی خصوصیت<br>44:47 اشرف المخلوقات پر اللہ کا بڑا فضل  <br>45:31 انبیاءؑ کی زبانی انسان کی فطری و جبلی ساخت کے مطابق تذکیر و یاددہانی<br>46:40 حمد و ثناء کا حکیمانہ انداز و اُسلوب<br>48:01 شاہ صاحبؒ پر عنایتِ رحمن سے  تفہیماتِ الٰہیہ  کافیضان<br>49:43 تفہیماتِ الٰہیہ کا قلب، زبان اور پھر بنان(انگلیوں) تک فیضان ہوا<br>51:08 شاہ صاحبؒ کی اکثر تصنیفات کا سبب ‘مولانا محمد عاشق پھلتیؒ<br>51:25 مولانا محمد عاشق پهلتی کی طرف سے اپنے استاذ امام دہلوی کو حُجّةُ اللّٰه البالِغة کی تصنیف کے لیے کمربستہ ہونے کا بھرپور تقاضا<br>https://youtu.be/ER8hCgIbjhA?t=1654<br>52:19 تفہیماتِ الٰہیہ کو عقلی دلائل وبرہانیات کی اساس پر پیش کرنا‘ عصری تقاضا<br>53:34 ’’البدور البازغہ‘‘  اور ’’حجة اللہ البالغہ‘‘نام رکھنے میں گہراراز<br>54:09 گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: عالمِ مثال میں کار فرماں قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام، حظیرۃ القدس،فرشتوں کا زیریں نظام<br>https://youtu.be/CVhaXROrL_o<br>55:06گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: باب:3 (حصہ اول)۔ عالمِ مثال میں کار فرما قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام<br>https://youtu.be/sGURNrJ9VuY<br>56:46 چاند؛ نظامِ شمسی کے احکامات منتقل کرنے کا ذریعہ<br>59:16 کتاب کا عنوان ’’البدور البازغہ‘‘ رکھنے کی ایک اور حکمت<br>1:01:38 فاتحۂ کتاب میں  حکماء کی باتوں کا تحلیل و تجزیہ<br>1:02:24 کتاب کا پہلا مقالہ؛علم الاخلاق والارتفاق<br>1:03:19 کتاب کا دوسرا مقالہ؛علم الاقترابات<br>1:04:06 کتاب کا تیسرا مقالہ؛ بیان الملل والشرائع (شرائع و ملتوں کا بیان)<br>1:06:16 حکمت کے جن بنیادی مسائل کو جمہور حکماء  نے چھوڑ دیا  ، فاتحہ میں ان کا بیان<br>1:08:00 برہان کی تعریف اور دو قسمیں<br>1:09:28 حکمت کا بنیادی مقصد؛ تفتیشِ حقائق</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </description>
      <content:encoded>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 01<p> (دیباچہ و فاتحہ)<br> البدور البازغة کا تعارف اور بنیادی مباحث کا خلاصہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 18؍ جنوری 2023ء / 25 جمادی الاخری 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ <br>0:00 آغاز<br>0:33 بدورِ بازغه کا آغاز<br>1:01 فیوض الحرمین؛  حقائق کائنات کے مشاہدات اور علمی تحقیقات کا مجموعہ <br>2:22 مَشہد اور علمی تحقیق  میں فرق<br>2:48 حجة الله البالغة کا تصنیفی پسِ منظر اور بنیادی مضامین<br>4:29 علمِ حدیث کی چوتھی قسم جس کا حجة الله کے مقدمے میں تذکرہ؛ درس 01 کا لنک <br>https://youtu.be/Qqg1pEewEt8<br>5:16 حجة اللہ کے آخری درس کا لنک<br>https://youtu.be/vxzUKwWMhFs<br>6:04  حکمائے ربانیّن، مجدّدینِ امت پر تفہیماتِ الہیہ کا نزول<br>6:45 مُفھّمین و مُحدَّثین کی تعریف اور دونوں قرآن وحدیث سے ماخوذ <br> 8:05تفہیم کی تعریف؛ اللہ کی مرضیات  کی حالت و کیفیت و عزم کا طاری ہونا<br>10:09 مُحدَّث و مجدّد اور نبی میں جوہری فرق <br>11:19 علومِ نبوت اور تفہیماتِ ربانیہ میں فرق و امتیاز<br>11:42 حجة الله میں مفہمین کی اقسام سے متعلقہ درس 59 کا لنک:<br>https://youtu.be/hK18ezy3U_4<br>12:35 البدورالبازغه  میں علومِ نبوت کی حکمت کے اصول پروضاحت <br>13:52 تفہیمات اور حکمت کےمطابق علومِ نبوت کی تشریح <br>14:23 حجة اللہ البالغہ کے مقدمے کی بحث کا لنک:<br>https://youtu.be/rsN3_NW8n2U<br>16:07 شاہ صاحبؒ کا اُسلوبِ حکمت اور طرزِ تفہیم<br>17:19حکماء و فلاسفہ کے تصورات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین <br>19:04 شاہ صاحبؒ کا انداز و اسلوب؛ شخصیات کا نام لیے بغیر ان کے نظریات کو زیرِ بحث لانا<br>20:04 بدورِبازغه  کے آغاز سے پہلے مبادیاتِ حکمت سمجھنا ضروری <br>21:23 علم وحکمت کی تعریف، حکمتِ نظریہ اور اس کا دائرہ کار<br>23:44 حکمتِ نظریہ میں تحقیق و تفتیش کی دو صورتیں<br>24:51 حکمتِ عملیہ  کی تعریف اور حکمتِ نظریہ و عملیہ میں فرق<br> 26:35حکمتِ عملیہ کی پہلی قسم؛ تہذیب الاخلاق<br>27:38 دوسری قسم؛ تدبیرالمنزل<br>✔️ تیسری قسم:  سیاست المدینه<br>28:16 ارتفاقِ ثانی کی پانچ حکمتوں سے متعلق دروس کے لنکس:<br>۱۔ ارتفاق دوم میں فنّ آدابِ معاش (زندگی بسر کرنے کی حکمت عملی) کی اہمیت<br>https://youtu.be/1lOawuGywDM<br>۲۔ ارتفاقِ دوم میں حکمتِ منزلیہ (منزلی نظام) کی اہمیت اور اس کے امور<br>https://youtu.be/JEux7P-fQs4<br>۳۔ ارتفاقِ دوم میں تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور مہارتوں و پیشوں کے علوم کی اہمیت <br>https://youtu.be/W8jXil8fWos<br>28:29 تیسری قسم: سیاست المدینه<br>ارتفاقِ سوم (سیاستِ مدینہ) کے ضروری امور اور ممالک کی تباہی و بربادی کے بنیادی اسباب<br>https://youtu.be/VlnsDi7fpqs<br>28:47 نبی اکرمؐ نے  حکمت کی چوتھی قسم؛ خلافتِ کبریٰ متعارف کرائی<br>29:21 حکمتِ نظریہ کی تین قسمیں؛ پہلی قسم: حکمتِ ریاضیہ<br>31:20 حکمتِ نظریہ کی دوسری قسم: حکمتِ طبیعی<br>32:44 تیسری قسم: حکمتِ الہیہ<br>33:33 امام شاہ ولی اللہؒ کی حکمت کی ان اقسام سے  تحقیقی بحث <br>34:52 البدورالبازغه میں حکمت کے اصولوں کی توضیح پر مشتمل تین مقالے <br>37:04 البدورالبازغه میں حکمت کے اُسلوب پر دینِ اسلام کے مکمل نظام کا احاطہ<br>38:36 انسانیت کو ’’وجود‘‘ بخشنے والی ذات کی حمد و ثنا  کے ساتھ کتاب کا آغاز<br>40:03 معایش (ضروریات وحاجات) کو پورا کرنے کے لیے انسان کو وحئ طبیعی <br>41:12 انسانی حوائج کو پورا کرنے کے لیے ارتفاقات و تقدیر کا نظام<br>42:20 ”فأوحٰى إليه معايشه“ سے کتاب کے پہلے مقالے کی طرف اشارہ<br>42:33 انسان کو تقربِ بارگاہ الٰہی  کے فطری و طبعی طریقوں کا الہام<br>43:13 ہر شے پر قبضہ قدرت میں ہے<br>43:51 علوم الاقترابات  والارتفاقات  کی بنیاد پر انسان کی امتیازی خصوصیت<br>44:47 اشرف المخلوقات پر اللہ کا بڑا فضل  <br>45:31 انبیاءؑ کی زبانی انسان کی فطری و جبلی ساخت کے مطابق تذکیر و یاددہانی<br>46:40 حمد و ثناء کا حکیمانہ انداز و اُسلوب<br>48:01 شاہ صاحبؒ پر عنایتِ رحمن سے  تفہیماتِ الٰہیہ  کافیضان<br>49:43 تفہیماتِ الٰہیہ کا قلب، زبان اور پھر بنان(انگلیوں) تک فیضان ہوا<br>51:08 شاہ صاحبؒ کی اکثر تصنیفات کا سبب ‘مولانا محمد عاشق پھلتیؒ<br>51:25 مولانا محمد عاشق پهلتی کی طرف سے اپنے استاذ امام دہلوی کو حُجّةُ اللّٰه البالِغة کی تصنیف کے لیے کمربستہ ہونے کا بھرپور تقاضا<br>https://youtu.be/ER8hCgIbjhA?t=1654<br>52:19 تفہیماتِ الٰہیہ کو عقلی دلائل وبرہانیات کی اساس پر پیش کرنا‘ عصری تقاضا<br>53:34 ’’البدور البازغہ‘‘  اور ’’حجة اللہ البالغہ‘‘نام رکھنے میں گہراراز<br>54:09 گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: عالمِ مثال میں کار فرماں قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام، حظیرۃ القدس،فرشتوں کا زیریں نظام<br>https://youtu.be/CVhaXROrL_o<br>55:06گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: باب:3 (حصہ اول)۔ عالمِ مثال میں کار فرما قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام<br>https://youtu.be/sGURNrJ9VuY<br>56:46 چاند؛ نظامِ شمسی کے احکامات منتقل کرنے کا ذریعہ<br>59:16 کتاب کا عنوان ’’البدور البازغہ‘‘ رکھنے کی ایک اور حکمت<br>1:01:38 فاتحۂ کتاب میں  حکماء کی باتوں کا تحلیل و تجزیہ<br>1:02:24 کتاب کا پہلا مقالہ؛علم الاخلاق والارتفاق<br>1:03:19 کتاب کا دوسرا مقالہ؛علم الاقترابات<br>1:04:06 کتاب کا تیسرا مقالہ؛ بیان الملل والشرائع (شرائع و ملتوں کا بیان)<br>1:06:16 حکمت کے جن بنیادی مسائل کو جمہور حکماء  نے چھوڑ دیا  ، فاتحہ میں ان کا بیان<br>1:08:00 برہان کی تعریف اور دو قسمیں<br>1:09:28 حکمت کا بنیادی مقصد؛ تفتیشِ حقائق</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </content:encoded>
      <pubDate>Sat, 08 Nov 2025 14:50:47 +0500</pubDate>
      <author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</author>
      <enclosure url="https://media.transistor.fm/ef9a2c4c/7424a36f.mp3" length="72945678" type="audio/mpeg"/>
      <itunes:author>Rahimia Institute of Quranic Sciences</itunes:author>
      <itunes:image href="https://img.transistorcdn.com/J5cQCg-dBhm_bt_-O1uUaLDiehxjnRnwbq4CF5UVTeA/rs:fill:0:0:1/w:1400/h:1400/q:60/mb:500000/aHR0cHM6Ly9pbWct/dXBsb2FkLXByb2R1/Y3Rpb24udHJhbnNp/c3Rvci5mbS83MzU5/OTc0YTZhYWZhYWEx/OTRjODcwMzA3ZTdi/ZWI3ZC5wbmc.jpg"/>
      <itunes:duration>4534</itunes:duration>
      <itunes:summary>
        <![CDATA[امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت<br> درس: 01<p> (دیباچہ و فاتحہ)<br> البدور البازغة کا تعارف اور بنیادی مباحث کا خلاصہ</p><p>مُدرِّس:<br> ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری<br> مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة</p><p>بتاریخ: 18؍ جنوری 2023ء / 25 جمادی الاخری 1444ھ<br>بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور</p><p>۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ <br>0:00 آغاز<br>0:33 بدورِ بازغه کا آغاز<br>1:01 فیوض الحرمین؛  حقائق کائنات کے مشاہدات اور علمی تحقیقات کا مجموعہ <br>2:22 مَشہد اور علمی تحقیق  میں فرق<br>2:48 حجة الله البالغة کا تصنیفی پسِ منظر اور بنیادی مضامین<br>4:29 علمِ حدیث کی چوتھی قسم جس کا حجة الله کے مقدمے میں تذکرہ؛ درس 01 کا لنک <br>https://youtu.be/Qqg1pEewEt8<br>5:16 حجة اللہ کے آخری درس کا لنک<br>https://youtu.be/vxzUKwWMhFs<br>6:04  حکمائے ربانیّن، مجدّدینِ امت پر تفہیماتِ الہیہ کا نزول<br>6:45 مُفھّمین و مُحدَّثین کی تعریف اور دونوں قرآن وحدیث سے ماخوذ <br> 8:05تفہیم کی تعریف؛ اللہ کی مرضیات  کی حالت و کیفیت و عزم کا طاری ہونا<br>10:09 مُحدَّث و مجدّد اور نبی میں جوہری فرق <br>11:19 علومِ نبوت اور تفہیماتِ ربانیہ میں فرق و امتیاز<br>11:42 حجة الله میں مفہمین کی اقسام سے متعلقہ درس 59 کا لنک:<br>https://youtu.be/hK18ezy3U_4<br>12:35 البدورالبازغه  میں علومِ نبوت کی حکمت کے اصول پروضاحت <br>13:52 تفہیمات اور حکمت کےمطابق علومِ نبوت کی تشریح <br>14:23 حجة اللہ البالغہ کے مقدمے کی بحث کا لنک:<br>https://youtu.be/rsN3_NW8n2U<br>16:07 شاہ صاحبؒ کا اُسلوبِ حکمت اور طرزِ تفہیم<br>17:19حکماء و فلاسفہ کے تصورات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین <br>19:04 شاہ صاحبؒ کا انداز و اسلوب؛ شخصیات کا نام لیے بغیر ان کے نظریات کو زیرِ بحث لانا<br>20:04 بدورِبازغه  کے آغاز سے پہلے مبادیاتِ حکمت سمجھنا ضروری <br>21:23 علم وحکمت کی تعریف، حکمتِ نظریہ اور اس کا دائرہ کار<br>23:44 حکمتِ نظریہ میں تحقیق و تفتیش کی دو صورتیں<br>24:51 حکمتِ عملیہ  کی تعریف اور حکمتِ نظریہ و عملیہ میں فرق<br> 26:35حکمتِ عملیہ کی پہلی قسم؛ تہذیب الاخلاق<br>27:38 دوسری قسم؛ تدبیرالمنزل<br>✔️ تیسری قسم:  سیاست المدینه<br>28:16 ارتفاقِ ثانی کی پانچ حکمتوں سے متعلق دروس کے لنکس:<br>۱۔ ارتفاق دوم میں فنّ آدابِ معاش (زندگی بسر کرنے کی حکمت عملی) کی اہمیت<br>https://youtu.be/1lOawuGywDM<br>۲۔ ارتفاقِ دوم میں حکمتِ منزلیہ (منزلی نظام) کی اہمیت اور اس کے امور<br>https://youtu.be/JEux7P-fQs4<br>۳۔ ارتفاقِ دوم میں تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور مہارتوں و پیشوں کے علوم کی اہمیت <br>https://youtu.be/W8jXil8fWos<br>28:29 تیسری قسم: سیاست المدینه<br>ارتفاقِ سوم (سیاستِ مدینہ) کے ضروری امور اور ممالک کی تباہی و بربادی کے بنیادی اسباب<br>https://youtu.be/VlnsDi7fpqs<br>28:47 نبی اکرمؐ نے  حکمت کی چوتھی قسم؛ خلافتِ کبریٰ متعارف کرائی<br>29:21 حکمتِ نظریہ کی تین قسمیں؛ پہلی قسم: حکمتِ ریاضیہ<br>31:20 حکمتِ نظریہ کی دوسری قسم: حکمتِ طبیعی<br>32:44 تیسری قسم: حکمتِ الہیہ<br>33:33 امام شاہ ولی اللہؒ کی حکمت کی ان اقسام سے  تحقیقی بحث <br>34:52 البدورالبازغه میں حکمت کے اصولوں کی توضیح پر مشتمل تین مقالے <br>37:04 البدورالبازغه میں حکمت کے اُسلوب پر دینِ اسلام کے مکمل نظام کا احاطہ<br>38:36 انسانیت کو ’’وجود‘‘ بخشنے والی ذات کی حمد و ثنا  کے ساتھ کتاب کا آغاز<br>40:03 معایش (ضروریات وحاجات) کو پورا کرنے کے لیے انسان کو وحئ طبیعی <br>41:12 انسانی حوائج کو پورا کرنے کے لیے ارتفاقات و تقدیر کا نظام<br>42:20 ”فأوحٰى إليه معايشه“ سے کتاب کے پہلے مقالے کی طرف اشارہ<br>42:33 انسان کو تقربِ بارگاہ الٰہی  کے فطری و طبعی طریقوں کا الہام<br>43:13 ہر شے پر قبضہ قدرت میں ہے<br>43:51 علوم الاقترابات  والارتفاقات  کی بنیاد پر انسان کی امتیازی خصوصیت<br>44:47 اشرف المخلوقات پر اللہ کا بڑا فضل  <br>45:31 انبیاءؑ کی زبانی انسان کی فطری و جبلی ساخت کے مطابق تذکیر و یاددہانی<br>46:40 حمد و ثناء کا حکیمانہ انداز و اُسلوب<br>48:01 شاہ صاحبؒ پر عنایتِ رحمن سے  تفہیماتِ الٰہیہ  کافیضان<br>49:43 تفہیماتِ الٰہیہ کا قلب، زبان اور پھر بنان(انگلیوں) تک فیضان ہوا<br>51:08 شاہ صاحبؒ کی اکثر تصنیفات کا سبب ‘مولانا محمد عاشق پھلتیؒ<br>51:25 مولانا محمد عاشق پهلتی کی طرف سے اپنے استاذ امام دہلوی کو حُجّةُ اللّٰه البالِغة کی تصنیف کے لیے کمربستہ ہونے کا بھرپور تقاضا<br>https://youtu.be/ER8hCgIbjhA?t=1654<br>52:19 تفہیماتِ الٰہیہ کو عقلی دلائل وبرہانیات کی اساس پر پیش کرنا‘ عصری تقاضا<br>53:34 ’’البدور البازغہ‘‘  اور ’’حجة اللہ البالغہ‘‘نام رکھنے میں گہراراز<br>54:09 گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: عالمِ مثال میں کار فرماں قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام، حظیرۃ القدس،فرشتوں کا زیریں نظام<br>https://youtu.be/CVhaXROrL_o<br>55:06گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: باب:3 (حصہ اول)۔ عالمِ مثال میں کار فرما قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام<br>https://youtu.be/sGURNrJ9VuY<br>56:46 چاند؛ نظامِ شمسی کے احکامات منتقل کرنے کا ذریعہ<br>59:16 کتاب کا عنوان ’’البدور البازغہ‘‘ رکھنے کی ایک اور حکمت<br>1:01:38 فاتحۂ کتاب میں  حکماء کی باتوں کا تحلیل و تجزیہ<br>1:02:24 کتاب کا پہلا مقالہ؛علم الاخلاق والارتفاق<br>1:03:19 کتاب کا دوسرا مقالہ؛علم الاقترابات<br>1:04:06 کتاب کا تیسرا مقالہ؛ بیان الملل والشرائع (شرائع و ملتوں کا بیان)<br>1:06:16 حکمت کے جن بنیادی مسائل کو جمہور حکماء  نے چھوڑ دیا  ، فاتحہ میں ان کا بیان<br>1:08:00 برہان کی تعریف اور دو قسمیں<br>1:09:28 حکمت کا بنیادی مقصد؛ تفتیشِ حقائق</p><p>بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔<br>https://www.rahimia.org/<br>https://web.facebook.com/rahimiainstitute/<br>https://www.youtube.com/@rahimia-institute</p><p>منجانب: رحیمیہ میڈیا</p>]]>
      </itunes:summary>
      <itunes:keywords>حجۃ اللہ، ارتفاقات،Hujjatullah,Irtifaqaat, mala ala, ملاء اعلی، Hazeerah tul Qudus</itunes:keywords>
      <itunes:explicit>No</itunes:explicit>
    </item>
  </channel>
</rss>
